رحمن ملک نے بداخلاقی کا نشانہ بنایا،امریکی خاتون صحافی کا الزام

  رحمن ملک نے بداخلاقی کا نشانہ بنایا،امریکی خاتون صحافی کا الزام

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں مقیم امریکی صحافی خاتون سنتھیا ڈان رچی نے خود کے ساتھ پیش آنے والے بداخلاقی کے واقعے کی تفصیلات بیان کردیں۔سنتھیا ڈان رچی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ساتھ بداخلاقی کا واقعہ 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد منسٹرز انکلیو میں وزیر داخلہ کے گھر پیش آیا۔ " میں نے سوچا کہ یہ میرے ویزہ سے متعلق میٹنگ ہے لیکن اس میں مجھے پھول پیش کرنے کے بعد نشیلا مشروب پلایا گیا، میں خاموش رہی کیونکہ پی پی کی حکومت میں پی پی کے وزیر داخلہ کے خلاف کون ایکشن لیتا؟ حال ہی میں انہوں نے میری فیملی پر حملہ کیا۔"سنتھیا رچی کے مطابق انہوں نے خود کے ساتھ پیش آنے والے بداخلاقی کے واقعے کے بارے میں 2011 میں امریکی سفارتخانے کو آگاہ کیا تھا لیکن اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے مناسب جواب نہیں دیا گیا۔سنتھیا رچی نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پاکستان میں انتہائی زبردست شخصیت سے ملاقات ہوئی، اسی نے انہیں اس بارے میں بات کرنے کیلئے ہمت بندھائی کیونکہ اس بارے میں بات کرنے سے ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔ خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بات کرنے کو بہت کچھ ہے لیکن انہیں اپنے منگیتر کے ساتھ وقت گزارنے کیلئے کچھ دن آرام کی ضرورت ہے۔ " میں پی پی کے قائد بلاول بھٹو زرداری سے کہتی ہوں کہ وہ اپنے لوگوں سے کہیں کہ میری فیملی کو اکیلا چھوڑ دیں۔ میں کسی بھی یا تمام تحقیق کاروں سے قانون کے مطابق ملنے کیلئے تیار ہوں۔"خیال رہے کہ اس سے قبل اپنے ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان میں مقیم امریکی خاتون صحافی سنتھیا ڈان رچی نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے خلاف اس لیے زیادہ بولتی ہیں کیونکہ 2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان کے ساتھ بداخلاقی کی تھی۔ اس وقت کے وزیر صحت مخدوم شہاب الدین اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایوان صدر میں انہیں جسمانی طور پر ہراساں کیا۔سنتھیا ڈان رچی نے کہا کہ وہ اس واقعے کی مزید تفصیلات بتانے کیلئے بھی تیار ہیں لیکن وہ یہ تفصیلات تحقیقاتی صحافیوں کے سامنے بیان کریں گے۔ انہوں نے اس واقعے کی ساری تفصیلات سے اپنے بھروسہ مند دوستوں کو بھی آگاہ کردیا ہے تاکہ کل کو کچھ ہوجائے تو معاملہ سامنے آسکے۔

امریکی خاتون صحافی

مزید :

صفحہ اول -