محکمہ زراعت نے کپاس کی بی ٹی و نان بی ٹی اقسام کا اعلان کردیا

      محکمہ زراعت نے کپاس کی بی ٹی و نان بی ٹی اقسام کا اعلان کردیا

  

فیصل آباد(اے پی پی)محکمہ زراعت نے کپاس کی بی ٹی و نان بی ٹی اقسام کا اعلان کردیاہے جبکہ کاشتکاروں کوکپاس کی دوسری منظور شدہ بی ٹی اقسام کا انتخاب اپنے علاقے،زمین کی قسم،پانی کی دستیابی اور محکمہ زراعت توسیع کے مقامی عملہ کے مشورہ سے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ کے ترجمان نے کہا کہ کاشتکار اچھی پیداوار کے حصول کیلئے کپاس کی بی ٹی اقسام آئی یو بی13،ایف ایچ142،ایم این ایچ886،نیاب 878،بی ایس15،ایف ایچ 114،ایف ایچ لالہ زار،آئی آر3701،این ایس 121 اور نان بی ٹی اقسام نیاب کرن کاشت کریں۔ جبکہ کپاس کی دوسری منظور شدہ بی ٹی اقسام کا انتخاب اپنے علاقے،زمین کی قسم،پانی کی دستیابی اور محکمہ زراعت توسیع کے مقامی عملے کے مشورہ سے کیا جا ئے۔ انہوں نے کہا کہ بی ٹی اقسام کے ساتھ 10 فیصد رقبہ نان بی ٹی اقسام بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر بیج کا اُگاؤ 75 فیصد یا زیادہ ہو تو کاشت کیلئے بُر اترا ہوا 6کلو گرام جبکہ بُردار بیج8 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر بیج کا اگاؤ60فیصد ہو تو بُر اترا ہوا بیج8اور بر دار بیج 10 کلوگرام فی ایکڑ اور اگر بیج کا اگاؤ 50فیصد ہو تو شرح بیج بر اترا ہوا بیج 10 کلوگرام جبکہ بردار بیج 12 کلو گرام فی ایکڑ ڈالا جائے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار بوائی سے قبل بیج کو مناسب کیڑے مار دوائی لگا لیں تاکہ فصل ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں بالخصوص سفید مکھی کے حملے سے محفوظ رہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاربیج کو بیماریوں سے بچانے کیلئے محکمہ زراعت(توسیع) کے عملہ کے مشورہ سے مناسب پھپھوندی کُش زہر بھی لگا لیں نیزکپاس کی کاشت ترجیحاً پٹریوں پر کریں جس کیلئے مشینی طریقہ استعمال یا ہاتھ سے چوپا لگایا جائے تاہم اگر کپاس کی کاشت ڈرل سے کرنی ہو تو قطاروں کا فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں اور جب پودوں کا قد ایک سے دو فٹ ہو جائے تو پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن پر مٹی چڑھا دیں۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی کاشت ترجیحاً پٹریوں پر کی جائے کیونکہ پٹریوں پر کاشتہ فصل میں جڑی بوٹیوں کا انسداد آسان، کھادوں کا استعمال بہتر، پانی اور بارشوں سے ہونے والے نقصان سے بھی بچت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈرل سے کاشتہ فصل کیلئے پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا 35دن بعد اور بقیہ 12سے15 دن کے وقفے سے کی جا ئے جبکہ پٹریوں پر کاشتہ فصل کیلئے بوائی کے بعد پہلا پانی 3 تا4 دن،دوسرا، تیسرا اور چوتھا پانی6 تا7 دن کے وقفے سے جبکہ بقیہ پانی 12 دن کے وقفے سے حسبِ ضرورت لگایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار پودوں کی تعداد پوری کرنے کیلئے چھدرائی کے عمل سے زائد پودے نکال دیں اورچھدرائی کا عمل بوائی کے 20 تا 25دن کے اندریا پہلے پانی سے پہلے یا خشک گوڈی کے بعد ہر حالت میں ایک ہی دفعہ میں مکمل کریں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ کاشتکار کمزور زمین میں پونے دو بوری ڈی اے پی،ڈیڑھ بوری ایس او پی اور ساڑھے تین بوری یوریا فی ایکڑجب کہ درمیانی زمین میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی،ڈیڑھ بوری ایس او پی اور سوا تین بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں اسی طرح زرخیز زمین میں سوا بوری ڈی اے پی اور تین بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کی جائے۔

fd/taa/riz 1148

******** آئٹم نمبر 85 ********

موسمی تغیرات، بے وقت بارشوں اور کورونا کی تشویشناک صورتحال کے باوجود گندم کی 1کروڑ 94لاکھ ٹن پیداوارحاصل ہوئی جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں 10لاکھ23ہزار ٹن زیادہ ہے، ترجمان محکمہ زراعت

فیصل آباد۔ جون (اے پی پی)محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایا کہ موسمی تغیرات، بے وقت بارشوں اور کورونا کی تشویشناک صورتحال کے باوجوداس بار گندم کی 1کروڑ 94لاکھ ٹن پیداوارحاصل ہوئی جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں 10لاکھ23ہزار ٹن زیادہ ہے جبکہ پنجاب میں چنے کی 4لاکھ30ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوئی جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں 53ہزار ٹن زیادہ ہے اسی طرح کینولہ کی فصل1لاکھ10 ہزار ایکڑ رقبے پر کاشت ہوئی جس سے76ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوئی ہے جو پچھلے سال کے مقابلہ میں دوگنا ہے۔میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ حکومت کی کسان دوست پالیسیوں اور کاشتکاروں کی محنت کے باعث ربیع کی فصلات کی پیداوار میں اضافہ خوش ۱ٓئند ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت اس وقت تک فیصل ۱ٓباد ڈویژن کے چاروں اضلاع فیصل ۱ٓباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ سمیت صوبہ بھر سے کاشتکاروں سے 40لاکھ ٹن سے زیادہ گندم کی خریداری کرچکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے حکومت پنجاب نے 256ارب روپے کے فنڈز مختص کر رکھے ہیں تاکہ کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں کی جاسکیں۔انہوں نے بتایا کہ زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کے لئے وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت 300 ارب روپے کے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے جبکہ اس کے علاوہ حال ہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے 56.6 ارب روپے کے زرعی پیکیج کی منظوری بھی دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ پنجاب کے25 اضلاع میں ٹڈی دل کی وجہ سے کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کے تمام متعلقہ ادارے بشمول محکمہ زراعت پنجاب شروع سے ہی ٹڈی دل کی سرویلنس اور کنٹرول کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ٹڈی دل کے خاتمہ کیلئے ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے 1ارب روپے کی خطیر رقم جاری کی ہے اور ٹڈی دل کی مؤثر نگرانی کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا سرکاری ہیلی کاپٹر بھی وقف کردیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب لوکسٹ کنٹرول پلان کے تحت پی ڈی ایم اے کی طرف سے تمام متاثرہ اضلاع میں کنٹرول رومز قائم کردئیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت پنجاب اور دیگر متعلقہ ادارے بشمول پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، فیڈرل پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اور پاکستان آرمی کی ٹیمیں ٹڈی دل سے متاثرہ 25 اضلاع فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ،بھکر،بہاولپور،بہاولنگر،خوشاب،راجن پور، ڈی جی خان، لیہ، میانوالی، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، رحیم یارخان، قصور، ملتان، لودھراں، وہاڑی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اٹک، مظفرگڑھ، چکوال، جہلم اور سرگودھا میں ٹڈی دل کے کنٹرول کیلئے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک1کروڑ47لاکھ ایکڑرقبے کی سرویلنس کاکام مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت پنجاب اور دوسرے اداروں کی 3 ہزار افراد پر مشتمل ٹیمیں ٹڈی دل کے کنٹرول کیلئے دن رات کام کر رہی ہیں اوراب تک صوبہ پنجاب میں جدید آلات ومشینری کے ذریعے 7لاکھ56ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر75ہزار لٹرزرعی ادویات کا سپرے کیا جاچکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹڈی دل کے مؤثر تدارک کے لئے زمینی سپرے کے ساتھ ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ہوائی سپرے بھی کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ا س وقت ٹڈی دل کی مائیگریشن کا عمل جاری ہے اورٹڈی دل تاحال چولستان کی طرف محوِ سفر ہے جہاں محکمہ زراعت و دیگر متعلقہ اداروں کی خصوصی ٹیمیں موجود ہیں جو اس کے تدارک کے لئے مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔

fd/taa/riz 1148

مزید :

کامرس -