لاہور ہائیکورٹ نے حکومت کو واٹس ایپ پر مرغی کی قیمتیں مقرر کرنے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے حکومت کو واٹس ایپ پر مرغی کی قیمتیں مقرر کرنے سے روک دیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ نے مرغی فروخت کرنیوالے دکانداروں کو ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ حکومت واٹس ایپ پر چل رہی ہے؟عدالت نے ضلعی حکومت کومرغی کے نرخوں سے متعلق زبانی یا واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے کارروائی پر بھی تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیاہے،مسٹر جسٹس جواد حسن نے اس سلسلے میں دائرپولٹری ایسوسی ایشن کی درخواست پر پنجاب حکومت اور دیگر متعلقہ حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے مزید ریمارکس دیئے کہ چکن سے غریب کو بہتر خوراک ملتی ہے، چکن کسی صورت عام آدمی کی پہنچ سے دور نہیں ہونے دیں گے،عام آدمی کو چکن ہر صورت ملنا چاہیے،درخواست گزار ایسوسی ایشن کی طرف سے سلمان نیازی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو چکن کی یکطرفہ قیمتیں مقرر کرنے کا کوئی اختیار نہیں، چکن کی قیمتوں سے متعلق ضلعی انتظامیہ کا کوئی نوٹیفکیشن موجود نہیں، زبانی احکامات پر ضلعی انتظامیہ مرغی کی قیمتیں مقرر کر رہی ہے،اس سلسلے میں واٹس ایپ پر پیغامات جاری کئے جاتے ہیں،درخواست گزارکی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ برائلر کی خوراک مہنگی ہوچکی ہے،قیمتیں مقررکرتے وقت درخواست گزار ایسوسی ایشن کا موقف نہیں سنا جاتا،مہنگی مرغی خرید کر سستے داموں فروخت نہیں کی جاسکتی،حکومت بلاوجہ دکانداروں کو ہراساں کر رہی ہے،پنجاب حکومت کو دکانداروں کو ہراساں کرنے سے روکے اور قیمتیں مقرر کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کرے۔

مرغی کی قیمتیں

مزید :

صفحہ آخر -