بھارتی افواج کشمیری بچوں کے ساتھ جنسی استحصال میں ملوث: عالمی تنظیمیں

  بھارتی افواج کشمیری بچوں کے ساتھ جنسی استحصال میں ملوث: عالمی تنظیمیں

  

جموں (این این آئی)دنیا بھر میں جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا بین الاقوامی دن 2020 منایاگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بچے لاک ڈاون کے بعد سب سے بڑے خطرے کی زد میں ہیں۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ وادی کشمیر میں بچوں کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ مقبوضہ وادی میں پانچ دن گزارنے والے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد راتوں رات تقریبا 13000لڑکوں کو حراست میں لے کر غیر قانونی طور پر یا تو آرمی کیمپوں میں یا تھانوں میں رکھا گیا۔ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن جس میں خواتین حقوق کی کارکن کویتا کرشنن، اکانومسٹ جین ڈریز، آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن کی میمونہ مولا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (م)کی خواتین کی ونگ کی رکن، اور ایک سماجی کارکن ومل بھائی شامل تھیں،گذشتہ سال 9 اور 13 اگست کے درمیان سری نگر، سوپور، بانڈی پورہ، اننت ناگ، شوپیان اور پامپور گئے تھے۔مشن کی اس رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح5 اگست کے بعد اس طرح کے چھاپوں کے دوران بھارتی فوج کے افسران نے رات کے وقت کم عمر لڑکوں کو اغوا کیا اور ان کے ساتھ بداخلاقی کی۔ والدین پبلک سیکیورٹی ایکٹ کے مقدمات درج ہونے سے خوفزدہ تھے۔ دوسرا خوف یہ تھا کہ ان لڑکوں کو لاپتہ کیا جاسکتا ہے یعنی حراست میں لے کر انہیں کہیں اجتماعی قبروں میں نہ پھینک دیا جائے۔مشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکام نے لڑکوں کو گرفتار کرتے وقت ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا اور کچھ کو قید کے دوران بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن آف امریکن اقلیتی ایسوسی ایشن آف چائلڈ رائٹس سے متعلق کمیٹی کے سامنے پیش کردہ 'ہندوستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بچوں کی صورتحال کے عنوان سے ایک اور رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میں غیر معمولی ہندوستانی قابض افواج اور خفیہ ایجنسیوں نے صرف ان کی کمزوری کی وجہ سے بچے کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو نہیں بخشا،وہ متعدد جسمانی اور جذباتی بدسلوکیوں،تشدد اور بے گھر ہونے جیسے خطرات کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ بچوں کو ان کے اہل خانہ سے الگ ہوجانے کا زیادہ خطرہ ہے۔ لڑکیوں کو تشدد اور بدسلوکی کا خطرہ ہوتا ہے۔ جموں وکشمیر کے مقبوضہ علاقے میں بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کے ساتھ بھارتی حکومت کا رویہ ظالمانہ اور قابل مذمت ہے۔

عالمی تنظیمیں

مزید :

صفحہ آخر -