بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں جاری غیر انسانی لاک ڈاؤن کو 10ماہ مکمل ہو گئے

  بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں جاری غیر انسانی لاک ڈاؤن کو 10ماہ مکمل ہو گئے

  

اسلام آباد (آئی این پی)مقبوضہ جموں وکشمیر میں 5اگست 2019کو یک طرفہ اور غیرقانونی اقدام کے تحت بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری غیرانسانی لاک ڈاون، فوجی محاصرے، کمیونیکیشن قدغنوں اور عائد کردہ غیرمعمولی پابندیوں کو جمعہ کو 10ماہ مکمل ہوگئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ان دس ماہ کے دوران بھارتی قابض فوج نے کشمیریوں کے ہر حق کی خلاف ورزی کی اور اپنے غیرقانونی قبضے کوبرقرار رکھنے کے لئے کشمیری عوام پر ظلم وجبر اور استبداد کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا۔ایک ایسے وقت جب عالمی برادری کورونا عالمی وباسے برسرپیکار ہے، بھارت مقبوضہ خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے اور نام نہاد دراندازی اور جعلی مقابلوں کے نام پر کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت شہیدکرنے کی سفاکانہ کارروائیوں میں تیزی لاچکا ہے۔ کشمیری عوام اور بھارت کے اندر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والا بدترین سلوک اور ظلم واستحصال آرایس ایس کے زیراثر بی جے پی حکومت کی انتہاپسند ہندتوا سوچ کا براہ راست نتیجہ ہے جو انسانیت کے خلاف اپنے جرائم کے ارتکاب سے پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہاکہ انڈیا کو یاد رکھنا ہوگا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں کشمیری عوام پر بھارت کا جبرواستبداد انہیں غلام نہیں بناسکا اور نہ ہی مستقبل میں بھارت اس مذموم مقصد میں کامیاب ہوگا۔ بے گناہ کشمیریوں پر بھارت کے مزید ظلم وجبر اور استبداد سے ان کے اندر اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے عزم مزید پختہ و مضبوط ہوگا۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا فوری ادراک واحساس کرے اور کشمیریوں کے خلاف جرائم پر بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرے۔ پاکستان اپنے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق ملنے تک ان کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔

لاک ڈاؤن

مزید :

صفحہ آخر -