پنجاب کے پاس 43لاکھ میٹرک ٹن گندم موجو د، قلت کا خطرہ نہیں: علیم خان

    پنجاب کے پاس 43لاکھ میٹرک ٹن گندم موجو د، قلت کا خطرہ نہیں: علیم خان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(لیڈی رپورٹر)سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں اس وقت سرکاری سطح پر 43لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے اور قلت کا کوئی خدشہ نہیں۔رواں سال پنجاب میں کسانوں کو اُن کی محنت کا بہترین معاوضہ ملا ہے اور حکومت نے اچھے داموں پر گندم کی خرید کو یقینی بنایا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیف سیکرٹری کیمپ آفس میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں صوبائی وزراء میاں اسلم اقبال اور نعمان احمد لنگڑیال کے علاوہ چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری فوڈ اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔عبدالعلیم خان نے کہاکہ کسانوں کو اُن کی فصل کے بہترین داموں کے باعث آٹے کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت کی تمام تر توجہ مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے پر ہے جس کے لئے مربوط حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال گندم کی درآمد کی بھی اجازت دیں گے اور دیگر صوبوں کے فرق اور پنجاب کے شمالی اضلاع میں فصل کی کم کاشت میں بھی معاون ثابت ہوگا۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ گندم کی امپورٹ سے مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام آئے گا اور مارکیٹ میں مقابلے کی فضا قائم ہوگی۔ سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر گندم کی سرکاری سطح پر خرید کے لئے نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے تاکہ حکومت پر مالیاتی بوجھ کم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی کا مقصد ٹارگٹڈ سبسڈی کی فراہمی اور بھاری بینکوں کے قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے کہا کہ گندم کی خرید سے متعلق نئی سفارشات کو حتمی منظوری کے لئے پنجاب کابینہ میں پیش کیا جائے گا تاکہ صوبے میں جدید خطوط پر محکمہ خوراک کو نئے سرے سے استوار کیا جا سکے۔ اس پالیسی کے تحت سرکاری سطح پر گندم کی خرید صرف محدود سٹاک کے لئے کی جائے گی جبکہ فلور ملز کو اوپن مارکیٹ کے ذریعے خود گندم خریدنے کی اجازت ہوگی۔اجلاس میں سرکاری سطح پر گندم کی خرید سے متعلق دو ماڈل پیش کیے گئے جبکہ نئی پروکیورمنٹ پالیسی کیلئے سفارشات بھی سامنے رکھی گئیں۔
علیم خان

مزید :

صفحہ آخر -