سانگھڑ میں جعلی پولیس مقابلے کی انکوائری کرائی جائے،علی پل ایڈوکیٹ

سانگھڑ میں جعلی پولیس مقابلے کی انکوائری کرائی جائے،علی پل ایڈوکیٹ

  

میرپورخاص(رپورٹ/فہد ملک) سندھ ہیومن رائٹس ڈفینڈر نیٹ ورک کے عہدیدار ایڈوکیٹ علی پل، ایڈوکیٹ ممتاز جرواراور ایڈوکیٹ نوشین پہوڑ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان، وزیر اعلی سندھ، چیف سیکریٹری سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ سانگھڑ پولیس نے جعلی پولیس مقابلہ میں دو افراد سومار مہر اور علی حیدر رونجھو کو 20مارچ کو ماورائے عدالت قتل کیاجس کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور سابق ایس ایس پی سانگھڑ ذیشان صدیقی،پولیس کے جعلی انکاونٹر اسپیشلسٹ علن عباسی کوبھی فوری طور پر معطل کرکے ہلاک شدگان کے ورثا کو انصاف فراہم کیا جائے، وہ مقامی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مذکورہ پولیس کے جعلی مقابلے کی حقیقت پر مبنی رپورٹ 29مئی کو جاری کی ہے جس میں مذکورہ واقع کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا، انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم نے مذکورہ واقعے کے فورا بعد سانگھڑ میں شہریوں اور سانگھڑ کی بار میں وکیلوں سے بات چیت کی، سول سوسائٹی کے خیالات بھی لیے، موجود ایس ایس پی سانگھڑ سے بھی ملاقات کی اور حر جماعت کے خلیفاں سے ملاقات کے بعد ہماری رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ سومار مہر اور علی حیدر رونجھو دونوں بے قصو رتھے اور پولیس نے بے گناہ دونوں کا ماورائے عدالت قتل کیا انہوں نے کہا کہ سومار مہر کو پولیس نے عمرکوٹ سے اٹھایا اور سانگھڑ پولیس کے حوالے کیا جس کے شواہد موجود ہیں، اسی طرح علی حیدر رونجھو کو کھپرو سے اٹھا کر سانگھڑ پولیس کے حوالے کیا اور دونوں کو 20تاریخ کو پیرومل اور جھول تھانے کی حد میں ماورائے عدالت قتل کیا، انہوں نے کہا کہ کھپرو کے ایک بڑے ساہوکار گلاب رائے کا اغوا ہوا تھا اور سابق ایس ایس پی سانگھڑ ذیشان صدیقی نے دعوی کیا تھا کہ گلاب رائے کو ان کے حوالے کیا گیا ہے تو اس کو کس نے ایس ایس پی کے حوالے کیا، اس بات کی انکوائری کرائی جائے جبکہ گلاب رائے کی واپسی کے حوالے سے پولیس نے بے گناہ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر لاکھوں روپے وصول کیے اور گلاب رائے سے بھی پولیس نے بھاری رقمیں وصول کیں، انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کے دبا پر متقولین کے جعلی سرٹیفکیٹ لیے گئے جبکہ ان کے جسم پر جلانے اور دیگر تشدد کے نشانات تھے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذکورہ ماروائے عدالت کے حوالے سے انکوائری کمیٹی بنائی ہے، ڈی آئی جی میرپورخاص ذوالفقار لاڑک کی سربراہی میں، ممبران ایس ایس پی مٹھی عبداللہ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میرپورخاص عطااللہ شاہ، جس کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے،

مزید :

صفحہ آخر -