سی ٹی ڈی ہائی پروفائل کیسوں کی گھتی سلجھانے میں ناکام ہو گیا

سی ٹی ڈی ہائی پروفائل کیسوں کی گھتی سلجھانے میں ناکام ہو گیا

  

کراچی (کرائم رپورٹر)سندھ پولیس کا کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) ہائی پروفائل کیسوں کی گتھی سلجھانے میں ناکام ہو گیا متحدہ قومی مو منٹ کے سابق رہنما علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات 17 ماہ گزر جانے کے باجود بھی منطقی انجام تک سکی 4 مرکزی ملزمان تاحال مفرور تفصیلات کے مطابق 25 دسمبر 2018 کو متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کو ان کی رہائشگاہ کے باہر ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کیا گیا تھا جس کا مقدمہ گزری تھانے میں درج کیا گیا ہے بعد ازاں تحقیقات کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تفتیش سی ٹی ڈی حکام کو سونپی گئی تھی جس نے تکنیکی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے ہائی پروفائل کیس میں ملوث محمد فاروق,حسیب,ابوکر اور غزالی نامی ملزمان کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے دوران تفتیش قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں اور مزید 4 ملزمان کے نام اگل دیئے ہیں جن میں بلال،حسنین،مصطفی عرف کالی چرن اور فیضان شامل ہے جن کی گرفتاری ڈیڑھ برس میں تاحال عمل میں نہیں آسکی ہے گرفتار ملزمان کا دوران تفتیش کہنا تھا کہ قتل کے عوض انہیں 8 لاکھ روپے کی خطیر رقم کی ادائیگی حسینی بلڈنگ کے عقب میں نا معلوم شخصیات کی جانب سے کی گئی ہے جبکہ علی رضا عابدی پر فائرنگ کرنے والا مرکزی کردار 17 سالہ بلال ہے جو مفرور ہے گرفتار ملزمان کی جانب سے علی رضا عابدی قتل کیس میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا گیا ہے جن پر عدلت کی جانب سے فرد جرم عائد کر دی گئی ہے تاہم سی ٹی ڈی کی جانب سے تفتیش سرد خانے کی نذر کیے جانے پر کیس کے مرکزی ملزمان تاحال قانون کے گرفت میں اب تک نہیں آ سکے ہیں آ ئندہ چند روز مذکورہ انکوائری مکمل طور پر بند کیے جانے کا اندیشہ ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -