ایمبولینس نایاب‘ نہر سے ملنے والی لاش ریڑھی پر ہسپتال منتقل

  ایمبولینس نایاب‘ نہر سے ملنے والی لاش ریڑھی پر ہسپتال منتقل

  

ڈیرہ بکھا (نمائندہ پاکستان) ڈیرہ بکھا کے نواحی علاقے چک نمبر 33 بی سی نواب والی سے ملحقہ نہر تھری ایل بی سی سے 17 سالہ لڑکی کی لاش برآمد ہوئی جس کو مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نہر سے نکالا پولیس تھانہ عباسنگر اور کرائم سین کی ٹیم تو موقع پر پہنچ گئی لیکن کئی گھنٹوں نامعلوم لاش کو ہسپتال منتقل کرنے کا انتظام نہ ہوسکا پولیس نے نیم برہنہ حالت میں نامعلوم لڑکی کی لاش کو ریڑھی نما موٹر سائیکل رکشہ پر ڈال کر ہسپتال کے لیے روانہ کردیا ڈیرہ بکھا سے گذرتے (بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

ہوئے مقامی NGO ڈیرہ بکھا ویلفئیر سوسائٹی کے چیرمین حاجی یوسف نے جب یہ منظر دیکھا تو انہوں نے لاش کو ڈھانپا رورل ہیلتھ سنٹر ڈیرہ بکھا پہنچنے کے بعد یہ لاش رات بھر اسی رکشہ پر ہسپتال کے صحن میں پڑی رہی 20 گھنٹے گزرنے کے بعد میڈیا کی مداخلت پر انتظامیہ حرکت میں آئی اور اے سی صدر بہاولپور دلاور خان رورل ہیلتھ سنٹر ڈیرہ بکھا پہنچے جس کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم شروع کیا گیا پوسٹ مارٹم کے بعد مقامی این جی او ڈیرہ بکھا ویلفئیر نے کفن دفن کے انتظامات کیے اس بارے گفتگو کرتے ہوئے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر کوثر کا کہنا تھا کہ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے لاش کو ہسپتال کے اندر نہیں رکھا جا سکتا تھا واقع پر اظہار مذمت کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ اس ملک میں وزراء کو سیر و تفریح کے لیے ہیلی کاپٹر تو میسر ہیں لیکن غریب کو ایمبولینس نہیں ملتی تبدیلی کا دعویٰ کرکے وجود میں آنے والی حکومت کے نئے پاکستان میں لاش کو جانورں کی طرح ریڑھیوں پر لاد کر ہسپتال پہچایا جاتا ہے جہاں پر لاش کو مناسب طریقے سے رکھنے کا کوئی انتظام ہی نہیں شہریوں نے حکام بالا سے واقع کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے نامعلوم لاش کے ورثاء بارے بھی تحال معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

ایمبولینس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -