تمباکو ٹیکس کا شتکاروں کیساتھ ناانصافی ہوگی،ابرار اللہ

تمباکو ٹیکس کا شتکاروں کیساتھ ناانصافی ہوگی،ابرار اللہ

  

تخت بھائی (احمد زادہ مہمندسے) کاشتکاروں اورصنعتی مزدوریونینز کا مردان میں اجلاس ہوا جس میں فیصلہ ہوا کہ حکومت ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ایماء پر تمباکو فصل پر ٹیکس لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جوکہ غریب کاشتکاروں کے ساتھ ظلم ہے جس سے لاکھوں کاشتکار اور تقریباً ۲۰ ہزار صنعتی مزدور بے روزگار ہو جائیں گے صوبائی صدر محنت کش لیبر فیڈریشن ابراراللہ بچھلے سال 300 روپے فی کلو ایڈوانس ٹیکس لگایا گیا تھا جس پر کاشتکاروں اور صنعتی مزدوروں نے احتجاج اور مظاہرے کئے۔۔ لیکن سال 2020 کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیاں کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح حکومت ان کاشتکاروں کے تمباکو پر بڑا ٹیکس لگائیں اور جو چھوٹے فیکٹریاں ہیں یا تمباکو ڈیلر ہیں ان کو ختم کیا جائے اور تمباکو مارکیٹ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہو سکیں۔ کاشتکاروں اور صنعتی مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ 10 روپے فی کلو گرام تمباکو ٹیکس کے علاوہ کوئی بھی ٹیکس ہمیں منظور نہیں۔ اور اگر حکومت ٹیکس لگانا چاہتی ہے تو سیگریٹ کی ڈبی پر لگائیں۔ کاشتکاروں یا صنعتی مزدوروں کے منہ سے نوالہ نہ چینا جائے۔ ابراراللہ صدر محنت کش لیبر فیڈریشن، رضوان اللہ صدر کسان بورڈ، حاجی عبدالنبی صدر سرحد ایگریکلچرل آینڈ رورل ڈیولپمنٹ ارگنائزیشن، حاجی نعمت شاہ صدر انجمن تحفظ کاشتکاران اور لیاقت یوسفزئی صدر تحفظ حقوق کاشتکاران مزدور کسان کواڈینیٹرمحمد اقبال۔ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختون خواہ میں بہت زیادہ غربت ہے اور بے روزگاری عام ہے لہٰذا تمباکو کے فصل کو تحفظ دیا جائے نہ کہ ان پر بے تحاشہ ٹیکس لگائیں جائے۔ہم تما م عہدیدار تحریک انصاف حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کاشتکاروں اور صنعتی مزدوروں کے حال پر رحم کریں اور تمباکو صنعت کو بچایا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -