پیکج میں ایس ایم ای سیکٹر کو نظر انداز کرنے پر اظہار تشویش

پیکج میں ایس ایم ای سیکٹر کو نظر انداز کرنے پر اظہار تشویش

  

پشاور (سٹی رپورٹر)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز نے وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا صورتحال کے پیش نظر چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروبار کے لئے منظور کردہ 30 ارب روپے کے پیکیج میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ایس ایم ای سیکٹر کو نظر انداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ آج تک اس صوبہ کے تاجروں اور چھوٹے صنعتکاروں کو اس ریلیف پیکیج سے ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ ایک بیان میں سرحد چیمبر کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز نے کہاکہ صوبہ خیبر پختونخوا ہمیشہ سے حکومتوں کے امتیازی رویوں کا شکار رہا ہے جبکہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ کا فرنٹ لائن صوبہ ہونے کے ناطے سب سے زیادہ قربانیاں اس صوبہ کی بزنس کمیونٹی نے دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کورونا ریلیف پیکیج صرف پنجاب اور سندھ کے لئے اناؤنس کیا گیا ہے تو یہ اس صوبے کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ انجینئر مقصود انور پرویز نے کہاکہ 30 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے کمرشل بینکوں کے بقول اُن کو کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان پشاور کو اس حوالے سے کوئی معلومات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وباء کے باعث سب سے زیادہ اموات بھی خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں جبکہ سب سے زیادہ متاثر کاروبار بھی اس صوبے کا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا سے طورخم کے راستے ایکسپورٹ کا عمل بھی متاثر ہو ا ہے اس کی وجہ سے ہمارے ایکسپورٹر کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انجینئر مقصود انور پرویز نے وزیراعظم عمران خان‘ وفاقی مشیر عبدالحفیظ شیخ‘ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ پرائم منسٹر کے30 ارب روپے کے ریلیف پیکیج میں پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے تاجروں اور چھوٹے صنعتکاروں کو فوری طور پر ان کا جائز حصہ دیا جائے اور متعلقہ اداروں کو فوری ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ اس صوبے کے ایس ایم ای سیکٹر کی بحالی کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں اور چھوٹے تاجروں اور چھوٹے صنعتکاروں کوریلیف پیکیج کی مد میں ان کا جائزحصہ دیا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -