رواں سال اپریل تک وفاق سے صوبے کو 294ارب روپے ملے، تیمور سلیم جھگڑا

رواں سال اپریل تک وفاق سے صوبے کو 294ارب روپے ملے، تیمور سلیم جھگڑا

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ رواں سال اپریل تک وفاق سے صوبے کو 294 ارب روپے ملے۔ اور خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے تحت 14 ارب روپے اپریل تک وصول کیے گئے۔ ترقیاتی منصوبوں میں صوبے کا اپنا حصہ 108 ارب روپے رہا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث پن بجلی کی مد میں وفاق سے ملنی والی رقم متاثر ہوئی۔ اور پچھلے تین مہینوں میں کورونا وائرس کے باعث ریونیو میں سو ارب روپے کا فرق آیا۔ اگلے بجٹ میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے خصوصی رقم مختص کی جائے گی۔ اورصحت کے لئے ریکارڈ فنڈز مختص کرینگے،انہوں نے کہا کہ اگلے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائینگے،آئندہ بجٹ میں سروس ڈیلوری پر زیادہ توجہ دی جائے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر کے ساتھ مالی سال 21-2020 کے بجٹ حکمت عملی پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب تمام فنڈز استعمال کیے ہیں اور ایک روپے بجٹ بھی لیپس نہیں ہوا۔ آئندہ بجٹ میں سروس ڈیلوری پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ اگلے مالی سال بجٹ میں صوبہ کی پوری آبادی کو صحت انصاف کارڈ دینگے۔اور یہ بجٹ پاکستان کی تاریخ میں صوبے کا منفرد بجٹ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2019–20 خیبرپختونخوا کے لیے اچھا سال تھا۔صوبے کے ایف بی آر شئیر میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔صوبائی ٹیکس کولیکشن اتھارٹی نے 73 فیصد اضافی ٹیکس محاصل حاصل کیے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ رواں مالی سال کی دوران پنش ریفارمز کے تحت 20 ارب کی بچت کی گئی، کورونا کے باعث وفاق کو ایف بی آر وصولیوں کی مد میں کمی کے باعث صوبائی بجٹ بھی متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے بجٹ میں 31 ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے، مشیر اطلاعات اجمل وزیرنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے کورونا صورتحال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور فرنٹ لائن پر قومی جذبے کیساتھ موجود ہے۔ صحافیوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں سب نے ملکر کورونا وائرس کو شکست دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا مشکلات سے باخبر ہے۔ جن کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مشیر اطلاعات نے کہا کہ قبائلی اضلاع بھی ہمارے ہیں ان کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -