خیبر پختونخوا، جامعات پر پچھلے 5سال سے جاری پابندیوں کو ختم کیا جائے، پیوٹا

خیبر پختونخوا، جامعات پر پچھلے 5سال سے جاری پابندیوں کو ختم کیا جائے، پیوٹا

  

پشاور (سٹی رپورٹر)پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) نے گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی جامعات پر پچھلے پانچ سال سے جاری پابندیوں کو ختم کیا جائے پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) صدر پروفیسر فضل ناصر نے گورنر خیبر بختونخوا کو جامعات میں پروموشن وغیرہ پر پابندیوں کے حوالے سے خط لکھا ہے۔ پروفیسر فضل ناصر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پیوٹا نے وائس چانسلر کے زریعے گورنر خیبر بختونخوا کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ جامعات میں پروموشن اور ایمپلائمنٹ پر پچھلے چار سال سے جاری بے جا پابندی کو ختم کیا جائے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے اساتذہ کی قانونی اور آئینی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ اگر قوم کے محسنوں کو ان کے حقوق نہ ملیں تو ایسی قوم کی ترقی سوالیہ نشان بن کر رہ جاتی ہے۔ انکا کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ایک گورنر آرڈیننس کے ذریعہ جامعات کے لئے قانون سازی کر رہی ہے جس سے جامعات کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2016 میں حکومت نے مشاورت کے بغیر جامعات کے لئے ایک ایکٹ پاس کیا جس کو پھر خود ہی چند مہینوں بعد تبدیل کر دیا۔ 2016 کے ایکٹ سے جامعات کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس سے حکومت وقت نے کچھ نہیں سیکھا اور اسی طریقہ سے بنا مشاورت کے دوبارہ ایک آرڈیننس لاگو کرنا چاہتی ہے اور اگر حکومت کو یونیورسٹیز ایکٹ میں ترامیم کرنی ہی ہیں تو اس کے لئے پہلے بنائی گئی کمیٹی کو ہی کام کرنے دیا جائے جس میں صوبہ کی تمام بڑی جامعات کے سے پروفیسرز ممبر تھے جبکہ فٖضل ناصر نے جامعہ میں ایس او پیز کے ھوالے سے کہا کہ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کرونا کے حوالہ سے جاری کردہ ایس او پیز کی مکمل پابندی کی جائے جبکہ ڈیپارٹمنٹس میں کوئی ایک ملازم ایس او پیز کی پابندی نہیں کرتا تو محکمانہ سربراہ کو اُس کے خلاف کارروائی کرنی چاہئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جامعہ کے مختلف دفاتر میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو انتظامیہ کو اس حوالہ سے سخت اقدامات کرنے چاہیئں جن میں ہر دفتر میں ہینڈ سینیٹائیزرز کی فراہمی، ماسکو کہ فراہمی، اور دیگر ضروریات احتیاطی تدابیر شامل ہیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -