پہلے غلطی کی جاتی اور پھر کہتے خود سنبھال لو، وزیر اعلیٰ سندھ نے کیا کچھ بند کرنے کی تجویز دی تھی؟ کھل کر بول پڑے

پہلے غلطی کی جاتی اور پھر کہتے خود سنبھال لو، وزیر اعلیٰ سندھ نے کیا کچھ بند ...
پہلے غلطی کی جاتی اور پھر کہتے خود سنبھال لو، وزیر اعلیٰ سندھ نے کیا کچھ بند کرنے کی تجویز دی تھی؟ کھل کر بول پڑے

  

کراچی(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آج سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ 40 مریض وفات پا گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دنوں میں ہم نے 45 ہزار کورونا وائرس کے ٹیسٹس کے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ لاک ڈاو¿ن مستقل حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جہاں بھی راشن بانٹا تو رات کو بانٹا اور اگر کسی نے تصویر لگائی تو میں نے اسے ڈانٹا لیکن جب احساس پروگرام شروع ہوا تو سماجی دوریوں کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب ہم نے راشن بانٹنے کے لیے میکنزم بنانے کی کوشش کی تو ہمیں پانچ اداروں سے ڈیٹا درکار تھا جس پر وزیراعظم نے نادرا کو ڈیٹا دینے کے لیے کہا لیکن پی ٹی اے والوں کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ سے اجازت لے لیں۔

انہوں نے خطاب کی ابتدا میں کہا کہ یہ وقت ڈیسک بجانے کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کھڑے ہو کر ڈاکٹرزاورطبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں کہا کہ دعا کریں ان 27 ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لیے جنہوں نے قربانیاں دی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ قربانی دینے والے سات پولیس اہلکاروں کے لیے دعا کرنا چاہتا ہوں اورپولیس، رینجرز و ریونیو کے ملازمین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر صحت سندھ کی نند کا آج انتقال ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے اسپیکر صاحب کا غصہ مجھ پر نکال دیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس زبان ہے، بولوں گا اورعوام کو بتاو¿ں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن کوشش کروں گا کہ مختصر تقریر کروں۔انہوں نے کہا کہ 26 مارچ کو جب بلاول ہاو¿س میں تھا تو وزیر صحت نے رابطہ کر کے بتایا کہ کورونا کا پہلا کیس آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 مارچ کو میں نے ڈاکٹروں کو بلا کر کنٹرول روم بنایا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی وزیر سعید غنی کا فون آیا کہ اسکول بند کردیں تو میں نے کہا کہ ایک کیس پر کیا اسکول بند کریں؟ تاہم انہوں نے بتایا کہ جب بات چیت ہوئی تو اگلے 25 منٹ میں ذہن تبدیل کیا اور اسکول بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔سید مراد علی شاہ نے ایوان کو بتایا کہ 100 دن ہو چکے ہیں اور ہم روزانہ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 13 مئی کو ہم کورونا وائرس کے سامنے ہتھیار ڈال چکے تھے۔

پی پی سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 27 مارچ کو ہم نے وینٹی لیٹرز خریدنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ٹیسٹ کا مسئلہ درپیش ہوا تو معلوم کرنے پربتایا گیا کہ آغا خان صرف 80 ٹیسٹ کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا اس پر فوری طور پہ دس ہزار ٹیسٹنگ کٹس منگوائی گئیں لیکن اس وقت تک اندازہ نہیں تھا کہ ہم کس سے مقابلہ کرنے جارہے ہیں؟

سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے فوری طور پر ایف آئی اے سے مسافروں کا ڈیٹا منگوایا اور تمام مسافروں کے پاس جا کر ٹیسٹنگ کرنے کا کام شروع کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے ایوان کو بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ اسکولوں کو 14 دن کے لیے بند کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی شادی ہالوں پر بندش عائد کی اور پی ایس ایل بند کرایا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے 13 تاریخ کو بتایا گیا کہ وزیراعظم نے اسلام آباد بلا یا ہے تومیں نے گیارہ کو ٹیسٹ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ 12 کو ٹیسٹ منفی آیا جس کے بعد 13 کے اجلاس میں وزیراعظم کو تجویز دی کہ تمام ایئرپورٹس بند کردیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری تجویز فوری طور پر دو ہفتے کے لاک ڈاو¿ن کی تھی۔ اس ضمن میں انہوں نے مثال دی کہ گوگل نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ 2020 میں دفتر آنا بھول جائو۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ایوان کو بتایا کہ میں نے جب 31 مارچ تک لاک ڈاو¿ن کرنے کے لیے کہا تو کہا گیا کہ ہم چین نہیں ہیں۔ انہوں ںے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے غلطی کی جاتی ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ اب خود سنبھال لو۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ جب 14 کو دوباہ میٹنگ ہوئی تو ماہرین نےکہا کہ سختی کرنا ہو گی جس پر لاک ڈائون سخت کیا اور جب میڈیا پر بتایا تو سب کو برا لگنے لگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لاک ڈاو¿ن سخت ہونے پر سیاسی جماعت کے لوگوں نے باقاعدہ مہم چلائی، سوشل میڈیا کا استعمال ہوا اور مجھ سمیت میرے خاندان پر الزامات لگائے گئے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خطاب کے دوران ہی ایوان کو بتایا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ ڈاکٹر سہراب سرکی گھر واپس آگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی مہم کے دوران تاجروں کی جعلی وائس ریکارڈنگ کے معاملے پر ایف آئی اے کو کارروائی کے لیے کہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے تو ذمہ داروں کو ڈھونڈ لیا ہے لیکن اب دیکھنا ہے کہ ایف آئی اے ان کو کب پکڑتی ہے؟

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہاں کہا گیا کہ لوگ بھوک سے مرجائیں گے اور سڑکوں پہ نکل آئیں گے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کون بھوک سے مرا ہے؟ مجھے بتائیں۔سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد کہا گیا کہ سرکاری لیبارٹری سے ٹیسٹ کرائو گے تو کورونا آئے گا۔

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نظام بے آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی سی آر ٹیسٹ کی ایکوریسی 70 فیصد ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لوگوں کے ذہن میں ڈالا گیا کہ کورونا وائرس کا مریض بنا دو تو پیسے ملیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پھرکہا گیا کہ حکومت کو ایک کورونا مریض کی میت پر تین ہزار ڈالرزملیں گے۔انہوں نے کہا کہ اب مرض کوئی سا بھی ہو اس کا کورونا ٹیسٹ ہوتا ہے۔ انہوں نے نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ یہ سب ان لوگوں نے کیا جو چاہتے تھے کہ لوگ اس وائرس سے مریں۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سول اسپتال کا واقعہ ہمارے سامنے ہے کہ جب لوگ لڑنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -