سندھ اسمبلی میں انیل کپور اور امریش پوری کے چرچے مگر کیوں؟

سندھ اسمبلی میں انیل کپور اور امریش پوری کے چرچے مگر کیوں؟
سندھ اسمبلی میں انیل کپور اور امریش پوری کے چرچے مگر کیوں؟

  

کراچی(ویب ڈیسک) سندھ کی قانون ساز اسمبلی میں کورونا وبا جیسی نازک اور حساس صورت حال پر بحث و مباحثے کے دوران اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے مثبت تنقید اور مفید تجاویز پیش کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی اور غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا۔

سندھ اسمبلی کا آج کا اجلاس اراکین کے درمیان جملے بازیوں اور ہلڑبازی میں بیت گیا، اجلاس میں کورونا کی صورتحال پر بحث جاری تھی تاہم اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے ایک دوسرے کے رہنماﺅں کو بالی ووڈ فلمی ستاروں سے تشبیہ دے ڈالی۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی ارسلان تاج نے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے دوران سندھ میں ایک ” انیل کپور“ کو ایکشن میں دیکھا گیا،آج پھر انیل کپور کی اداکاری دہرائی جائے گی۔اپوزیشن کے اس وار پر حکومتی ارکان بھلا کیسے خاموش رہ سکتے تھے، وزیرٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ نے جواباً کہا کہ ایک فلم میں امریش پوری کا بھی تو کردار تھا، امریش پوری کون تھا ؟ وہ بھی تو بتائیں۔ جس سے ایوان زعفران زار بن گیا۔

گزشتہ روز بھی رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی نے اپنی دھواں دار تقریر میں سندھ حکومت پر کڑی تنقید کی تھی جس پر وزیرصحت عذرا پیچوہو اور نصرت سحر عباسی کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان لفظی نوک جھونک اور ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانا معمول ہے تاہم اس دوران ایجنڈے پر بات ہونے کے بجائے زیادہ تر وقت ذاتیات اور نکتہ چینی پر صرف ہوجاتا ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -