پاکستان میں کورونا کے مریضوں ، اموات میں تشویشناک حدتک اضافہ شروع، تازہ اعدادوشمار سامنے آگئے

پاکستان میں کورونا کے مریضوں ، اموات میں تشویشناک حدتک اضافہ شروع، تازہ ...
پاکستان میں کورونا کے مریضوں ، اموات میں تشویشناک حدتک اضافہ شروع، تازہ اعدادوشمار سامنے آگئے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں کورونا بے قابو ہونے لگا اور متاثرہ افراد کی تعداد میں تشویشناک حدتک اضافہ شروع ہوگیا،  ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 91 ہزار 983  اور اب تک 1935 افراد جاں بحق ہوگئے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اب تک کی سب سے زیادہ اموات اور مریض سامنے آئے ۔

چوبیس گھنٹوں کی صورتحال 

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 97 افراد کورونا کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے جو اب تک کی ایک دن میں سب سے زیادہ اموات ہیں، تازہ اموات کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1965 تک جا پہنچی۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مریضوں کی تعداد میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا اور  4734 نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد مجموعی تعداد بانوے ہزار کے قریب جا پہنچی ۔ 

صوبوں کی حالت

اگر صوبوں کی صورتحال کا دیکھا جائے تو اس وقت پنجاب میں سب سے زیادہ ایکٹو کیسز ہیں، جہاں 26696 مریض، سندھ میں 16487، خیبرپختونخوا 8552، وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں 3649، بلوچستان میں  3612، گلگت بلتستان میں 333 اور آزاد کشمیر میں 138 مریض ہیں۔

صحت یابی 

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 1,383 تندرست ہوئے جس کے بعد   اب تک ملک بھر میں 32,581 صحت یاب ہو کر گھروں کو جاچکے ہیں۔

ٹیسٹ

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 22,185   ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد اب تک ہونیوالے مجموعی ٹیسٹوں کی تعداد 660,508 ہوگئی ہے ۔ 

 وزیراعظم عمران خان کا موقف

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے کارکنوں سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا، ہم لاک ڈاؤن کی طرف واپس نہیں جاسکتے جبکہ کورنا کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے، اس نے پھیلنا ہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں رضا کاروں کی ضرورت تھی جو عوام کو ضابطہ کار بتائیں، ٹائیگرفورس کی اس لیے بھی ضرورت تھی کہ وہ لوگوں کو کورونا سے متعلق سمجھائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے رمضان میں فیصلہ کیا کہ مساجد ضابطہ کار کے مطابق کھولیں گے، پولیس فورس اتنی نہیں تھی کہ تمام مساجد میں جاکرضابطہ کار پر عمل کرائیں لیکن ٹائیگرفورس کے رضا کاروں نے مساجد میں جاکرضابطہ کار پر عمل کرایا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر لوگ ضابطہ کار پر عمل کریں گے تو مشکل وقت سے نہیں گزریں گے، ہم نے شروع سے بہترین اقدامات کیے جس کی وجہ سے آج حالات بہتر ہیں، ہمیں پتاتھا کہ لاک ڈاؤن کھلے گا تو کورونا پھیلے گا، ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں زیادہ متاثرہ علاقوں کو بند کرنا پڑے لیکن ہم کورونا وائرس کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے، اس نے پھیلنا ہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سےغریب لوگوں کو نقصان ہوتا ہے، دیگر ممالک میں کورونا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہی ہوئی، لاک ڈاؤن میں غربت بڑھ جاتی ہے اور غریب کی تباہی ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا، ہم لاک ڈاؤن کی طرف واپس نہیں جاسکتے جبکہ کورنا کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے، لوگ بات کرتے ہیں کہ سخت لاک ڈاؤن کرنا چاہیے، انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ بہت سے ممالک نے کیسز بڑھنے کے باوجود لاک ڈوان ختم کیا۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا، دنیا بھی یہی مانتی ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن بہتر ہے، ریلیف سے متعلق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی تعریف کی ہے، ہم نے کم وقت میں اتنا زیادہ پیسہ مستحق لوگوں تک پہنچایا، اگرمؤثر ریلیف پیکج کا اعلان نہ کرتے تو ملک کے حالات خراب ہوتے۔

مزید :

اہم خبریں -کورونا وائرس -