” اس ملک میں اس کی کوئی قدر نہیں جو اچھاکام کرے “چیف جسٹس اطہر من اللہ سی ڈی اے پر برہم

” اس ملک میں اس کی کوئی قدر نہیں جو اچھاکام کرے “چیف جسٹس اطہر من اللہ سی ڈی ...
” اس ملک میں اس کی کوئی قدر نہیں جو اچھاکام کرے “چیف جسٹس اطہر من اللہ سی ڈی اے پر برہم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ میں سیکرٹری داخلہ ،سیکرٹری ماحولیاتی تبدیلی اورچیئرمین سی ڈی اے کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ سی ڈی اے پر برہم ہو گئے،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالتی کمیشن نے کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیا انہوں نے اچھا کام کیا،کمیشن رپورٹ پر کسی بھی وزارت نے آج تک بات ہی نہیں کی ، اس ملک میں اس کی کوئی قدر نہیں جو اچھاکام کرے ،اس ملک میں صرف طاقتور کیلئے کام کیاجاتا ہے

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ماحولیاتی تبدیلی اورچیئرمین سی ڈی اے کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چھٹی کے روز کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ وفاقی وزیرپلاننگ اسد عمر بھی عدالتی کمیشن کاحصہ ہیں ،حکومت ڈاکٹر پرویز حسن کے نوٹیفکیشن پر کیوں اڑی ہوئی ہے ؟،ڈاکٹر پرویز حسن دنیا کے جانے مانے ماحولیاتی ایکسپرٹ ہیں ،عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کے ایکسپرٹس پر شامل کمیشن بنایا،کمیشن کی رپورٹ اورسفارشات سے عام عوام اثرانداز ہو رہے ہیں ،اگرعام آدمی مر رہا ہے تو خیر ہے مگر کام کوئی نہیں ہوگا۔

عدالت نے نمائندہ سی ڈی اے پر برہمی کااظہارکیا ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نمائندہ سی ڈی اے استفسار کیا کہ وائلڈلائف کی سینچوریزکیوں سی ڈی اے نے ختم کردی؟،وائلڈلائف سینچوریز کیوں تباہ ہو گئی؟،چیف جسٹس نے نمائندہ سی ڈی اے سے استفسارکیا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کو جواب نہیں دینا؟،

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ ماسٹرپلان میں کمزور طبقے کیلئے کون ساسیکٹر بنا؟،جس مزدورنے اس شہرکو بنایا اسی مزدور کیلئے اس شہر میں کچھ نہیں ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے کو پلاٹ الاٹمنٹ سے روکاتھا بتایا جائے ابتک کتنی الاٹمنٹ ہوئی؟،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہماراپورانظام ہی ایسابناہواہے ،سی ڈی اے نے اس شہر کو ماڈل پلان کوتباہ کردیا،وفاقی حکومت اورسی ڈی اے کا ماحول کوصاف رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ،امیروں اورمخصوص لوگوں کیلئے کام ہوتارہتا ہے عام عوام کیلئے کچھ نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ عدالتی کمیشن نے کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیا انہوں نے اچھا کام کیا،کمیشن رپورٹ پر کسی بھی وزارت نے آج تک بات ہی نہیں کی ،اس ملک میں اس کی کوئی قدر نہیں جو اچھاکام کرے ،اس ملک میں صرف طاقتور کیلئے کام کیاجاتا ہے،سی ڈی اے نے اسلام آبادمیں لوگوں کو دربدر کردیا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ بتائیں اسلام آباد کے ماسٹرپلان کو کیوں تباہ ہ وبربادکردیا،عدالت نے سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی ،سیکرٹری وزارت انسانی حقوق ،چیئرمین سی ڈی اے کے نمائندہ افسر،چیئرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اورڈی جی انوائرمینٹل پروٹیکشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے نوٹسزجاری کردیئے اورسماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -