وہ ملک جس کا وزیراعظم خود احتجاجی ریلی میں شریک ہوگیا

وہ ملک جس کا وزیراعظم خود احتجاجی ریلی میں شریک ہوگیا
وہ ملک جس کا وزیراعظم خود احتجاجی ریلی میں شریک ہوگیا

  

اوٹاوا(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کے قتل کے بعد شروع والے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی پھیلنے لگا۔

کینیڈا میں بھی نسل پرستی کے خلاف ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں خود کینیڈین وزیر اعظم بھی شریک ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرے میں جسٹن ٹروڈو نے تین بار گھٹنے ٹیک کر مقتول سے ہمدردی اور مظاہرین سے یکجہتی کااظہارکیا۔

کینیڈین دارالحکومت میں نسل پرستی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ریلی میں شریک وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سیاہ ماسک اور سفید شرٹ پہن رکھی تھی۔

کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ریلی سے خطاب نہیں کیا، مظاہرے کے بعد جب شرکاء جب امریکی سفارتخانے کی جانب بڑھے تو وزیراعظم جسٹن ٹروڈو واپس چلے گئے۔

دوسری جانب جیونیوز کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں ہونے والے یہ مظاہرے ایسے موقع پر کیے گئے جب مشرقی کینیڈا میں پولیس کے ہاتھوں ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مشرقی کینیڈا میں پولیس کے ہاتھوں خاتون کی موت کےخلاف مظاہرہ بھی کیا گیا تاہم اس مظاہرے میں جسٹن ٹروڈو نے شرکت نہیں کی۔

خیال رہے امریکہ میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، ملک کے تقریبا تمام بڑے شہروں میں پرتشدد ہنگاموں نے معمولات زندگی درہم برہم کردیاہے۔ کئی عوامی و حکومتی املاک جلا دی گئی ہیں جبکہ اس دوران ہزاروں افراد کو گرفتار بھی کیا گیاہے۔

صورتحال پر قابو پانے کے لیے کئی علاقوں میں صدر ٹرمپ کے حکم پر فوج تعینات کی گئی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -