"بارود سے بھرے پھل حاملہ ہتھنی کیلیے نہیں رکھے تھے بلکہ۔۔۔" سفاک بھارتی شہری نے اہم انکشاف کردیا

"بارود سے بھرے پھل حاملہ ہتھنی کیلیے نہیں رکھے تھے بلکہ۔۔۔" سفاک بھارتی شہری ...

  

لکھنو(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں حاملہ ہتھنی کی بارود سے بھرے پھل کھا کر دردناک ہلاکت کے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ وپ پھل ہاتھی کے لیے نہیں رکھے تھے بلکہ جنگلوی سوروں کے لیے رکھے تھے۔

نجی ٹی وی اے آروائی نے بھارتی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے بعد گرفتار ملزم نے اعتراف جرم کرلیا، ولسن نامی ملزم نے بتایا کہ اس نے جنگلی سوروں کے شکار کے لئے دھماکہ خیز مواد سے بھرا پھل رکھا تھا، ہتھنی کی موت اس وقت ہوئی جب اس نے دھماکہ خیز مواد سے بھرے پھل کو کھانے کی کوشش کی۔

پولیس پر تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزم ولسن جنگلی جانوروں کا گوشت غیر قانونی طریقے سے فروخت کرتا تھا، وجس کے بعد ولسن پر جنگل اور وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

خیال رہے کچھ روز قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ بھارتی ریاست کیرالہ میں مبینہ طور پرشرپسند عناصر نے حاملہ ہتھنی کو دھماکہ خیز مواد سے بھرا انناس کھلادیا جس نے اس کا اندرونی نظام اس بری طرح تباہ کیا کہ وہ تین دن تک ایک دریا میں کھڑی ہو کر اپنی موت کا انتظار کرتی رہی۔

14 سے 15 سال عمر کی یہ ہتھنی مسلسل تین روز تک پانی پیتی رہی شاید اس سے اسے کچھ راحت مل رہی تھی۔ اس کا منہ اور سونڈ مسلسل پانی میں رہے، اس کے جبڑے پھٹ گئے ، دانت ٹوٹ گئے جبکہ اندرونی نظام درہم برہم ہوگیا۔

پلک کاڈ ضلع کے علاقے مینارکڑ کے جنگلات کے افسر سنیل کمار نے بی بی سی کو بتایا: 'محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے ہتھنی کو 25 مئی کو اس وقت دیکھا تھا جب وہ قریبی کھیت میں گھوم رہی تھی۔ شاید وہ اپنے پیٹ میں پلنے والے بچے کے لیے کچھ کھانا چاہ رہی تھی۔'

ہتھنی کے زخمی ہونے کا یہ واقعہ لوگوں کے سامنے اس وقت آیا جب ریپڈ رسپانس ٹیم کے فاریسٹ آفیسر موہن کرشنن نے فیس بک پر اس کے بارے میں ایک جذباتی پوسٹ لکھی۔

مزید :

بین الاقوامی -