طلاق کے لیے میاں بیوی نے 12 کروڑ روپے وکیلوں پر خرچ کردیا، دونوں کے پاس کل 10 لاکھ روپے بچے، جوڑوں کے لیے سبق آموز واقعہ

طلاق کے لیے میاں بیوی نے 12 کروڑ روپے وکیلوں پر خرچ کردیا، دونوں کے پاس کل 10 ...
طلاق کے لیے میاں بیوی نے 12 کروڑ روپے وکیلوں پر خرچ کردیا، دونوں کے پاس کل 10 لاکھ روپے بچے، جوڑوں کے لیے سبق آموز واقعہ

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک میاں بیوی میں ناچاقی ہو گئی اور انہوں نے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔ دونوں کے پاس 6لاکھ پاﺅنڈ کی دولت تھی، جس کے تصفیے کے لیے دونوں نے 2سال طویل قانونی جنگ لڑی اور اس جنگ کے اختتام پر دونوں کے ہاتھ کیا آیا؟ سننے والے بھی اس میاں بیوی کی حماقت پر سر پیٹ کر رہ گئے۔میل آن لائن کے مطابق اس شوہر کی عمر 53اور بیوی کی 50سال تھی جن کی شادی کو 22سال ہو گئے تھے اور ان کے تین بچے تھے۔

لندن کے رہائشی اس جوڑے کا ایک کیئر ہوم بزنس میں شیئر تھا۔ شوہر نے 6لاکھ پاﺅنڈ کی جمع پونجی میں سے 5لاکھ 90ہزار روپے (تقریباً12کروڑ روپے)دو سالہ قانونی جنگ میں وکلاءکی فیس اور دیگر قانونی کارروائیوں پر خرچ کر ڈالے۔ گزشتہ دنوں جب عدالت نے دونوں میں رقم آدھی آدھی بانٹنے کا فیصلہ سنایا تو صرف 10ہزار پاﺅنڈ باقی بچے تھے جن میں سے 5ہزار شوہر اور 5ہزار بیوی کے حصے میں آئے اور وہ 6لاکھ پاﺅنڈ کی خطیر رقم میں سے پانچ پانچ ہزار پاﺅنڈ لے کر گھروں کو چلتے بنے۔

کیئر ہوم بزنس سے شیئر ختم ہونے پر اس شخص کو وہاں سے نوکری سے بھی نکال دیا گیا اور اب وہ بطور پلمبر ایک کمپنی کے ساتھ کام کر رہا ہے اور 32ہزار پاﺅنڈ سالانہ کما رہا ہے۔ ان کا لندن میں واقع گھر اور دو گاڑیاں بھی اسی قانونی جنگ کی نذر ہو گئیں۔اب میاں الگ اور بیوی اپنے تین بچوں کے ساتھ الگ کرائے کے گھروں میں رہ رہے ہیں اور دونوں پر بھاری قرض چڑھ چکا ہے۔ اس وقت بیوی 2لاکھ 14ہزار 830پاﺅنڈ اور شوہر 2لاکھ 51ہزار 51پاﺅنڈ کا مقروض ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -