فوج کے بعد امریکی پولیس نے بھی جھٹکا دے دیا، ایک ہی شہر کے 57 پولیس اہلکاروں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا

فوج کے بعد امریکی پولیس نے بھی جھٹکا دے دیا، ایک ہی شہر کے 57 پولیس اہلکاروں نے ...
فوج کے بعد امریکی پولیس نے بھی جھٹکا دے دیا، ایک ہی شہر کے 57 پولیس اہلکاروں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے ہنگاموں کے درمیان پولیس آفیسرز نے ایک اور عمر رسیدہ شخص کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر لہولہان کر ڈالا اور باقی پولیس آفیسرز بھی بربریت کی انتہاءکرنے والے اپنے ان پیٹی بھائیوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہو گئے۔ میل آن لائن کے مطابق 75سالہ کارکن مارٹن گوجینو کو دو پولیس اہلکاروں نے امریکی ریاست نیویارک کے شہر بفیلو میں تشدد کا نشانہ بنایا۔ مارٹن گوجینو احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے جب ایک آفیسر نے ان پر لاٹھی برسائی اور دوسرے نے دھکا دے کر نیچے گرا دیا۔

رپورٹ کے مطابق مارٹن گوجینو پشت کے بل سڑک پر گرا جس سے اس کا سر بری طرح پھٹ گیا اور وہ لہو لہان ہو گیا۔ اسے بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جب اس واقعے کی خبر عام ہوئی تو ان دو پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے انویسٹی گیشن شروع کر دی گئی ۔ ان اہلکاروں کا تعلق ایمرجنسی ریسپانس ٹیم سے تھا۔ ان کی معطلی پر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کے باقی تمام 57اہلکاروں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔

واضح رہے کہ سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی منیپولیس میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں نے پورے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور جا بجا پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ پولیس آفیسرز کو گولیاں مارنے اور ان پر گاڑیاں چڑھانے کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔ا ب تک ان پرتشدد مظاہروں میں کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں مظاہرین کو روکنے کے لیے فوج طلب کی تھی لیکن فوج کے جرنیل بھی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف سامنے آگئے اور صدر ٹرمپ کو پسپائی اختیار کرتے ہوئے بلائی ہوئی فوج واپس بھیجنی پڑ گئی۔

مزید :

بین الاقوامی -