وہ قبیلہ جہاں گھوڑی کا دودھ بے حد شوق سے پیا جاتا ہے

وہ قبیلہ جہاں گھوڑی کا دودھ بے حد شوق سے پیا جاتا ہے
وہ قبیلہ جہاں گھوڑی کا دودھ بے حد شوق سے پیا جاتا ہے

  

اولان باتر(مانیٹرنگ ڈیسک) گھوڑے قدیم زمانوں سے سواری اور باربرداری کے لیے تو استعمال ہوتے آ رہے ہیں لیکن مشرقی ایشیاءکے ملک منگولیا میں ایک ایسا قبیلہ ہے جو گھوڑی کا دودھ بہت شوق سے پیتا ہے۔ میل آن لائن سے وابستہ صحافی خاتون سیڈی وائٹ لاکس نے منگولیا کے دارالحکومت اولان باتر سے صحرائے گوبی تک کا سفر کیا اور راستے میں اس نے اس قبیلے کے لوگوں کے ساتھ وقت گزارا اور ان کے انتہائی منفردطرز زندگی سے دنیا کو روشناس کرایا۔ سیڈی وائٹ لاکس لکھتی ہیں کہ یہ خانہ بدوش قبیلہ صحرائے گوبی میں خیمے گاڑے مقیم تھا۔ جب ان کی گاڑی وہاں پہنچی تو اس قبیلے کے لوگوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔

قبیلے کے لوگوں نے انہیں سونگھنے کے لیے نسوار دی جس سے انہیں چھینکیں آنے لگی اور پینے کے لیے گھوڑی کا دودھ دیا جس کے متعلق سیڈی وائٹ لاکس کا کہنا تھا کہ اس دودھ کا ذائقہ انتہائی منفرد تھا۔ سیڈی لکھتی ہے کہ یہ قبیلہ آج کے جدید دور میں بھی اپنے ہزاروں سال قدیم آباءکی طرز پر زندگی گزار رہا ہے۔ یہ لوگ آج بھی اپنی ہزاروں سال پرانی روایات پر کاربند ہیں لیکن باہر سے آنے والے اجنبی لوگوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ لوگ خیموں میں زندگی گزارتے ہیں، لکڑیاں جلاتے ہیں۔ ان کے خیمے اس طرح کے ہوتے ہیں کہ یہ گرمیوں میں سرد اور سردیوں میں گرم رہتے ہیں۔ یہ لوگ جانور پالتے ہیں اور یہی ان کا ذریعہ معاش ہے۔ ایک ایک خاندان کے پاس سینکڑوں جانور ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ منگولیا ایک ایسا ملک ہے جس کی آبادی کا ایک تہائی سے زائد حصہ خانہ بدوشوں اور نیم خانہ بدوشوں پر مشتمل ہے، جو اب بھی اپنی قدیم روایات پر کاربند رہتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -