معاشرے کی ترقی کیلئے قانون کی عمل داری ضروری ہے:چیف جسٹس پاکستان

معاشرے کی ترقی کیلئے قانون کی عمل داری ضروری ہے:چیف جسٹس پاکستان

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس گلزاراحمد نے کہاہے کہ قانون کی عمل داری کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے ضروری ہے، ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ کورونا وباء کے دوران بھی عدالتوں نے اپنی پوری استعداد کار کے ساتھ کام کیا،سپریم کورٹ سے لے کر کے ضلعی عدالتوں تک تمام جج اس تمام فیز میں دستیاب رہے،ان خیالات کااظہار انہوں نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں سول فوجداری لاء سائٹیٹرز اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی بنچ بْک کی لانچنگ تقریب میں خصوصی شرکت کے دوران کیا،گزشتہ روزچیف جسٹس پاکستان نے لاہور میں پنجاب کی پہلی کمرشل کورٹ کا افتتاح بھی کیا،پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں ہونے والی تقریب سے چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے بھی خطاب کیا، چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمدنے اپنے خطاب میں مزیدکہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ریسرچ سینٹر نے بہترین کام کرتے ہوئے سول و فوجداری لاء سائٹیٹرز کا کام مکمل کیا ہے جس میں تمام بڑے موضوعات کو شامل کیا گیا ہے، ہمارے جوڈیشل افسروں کو ان کے تمام سوالات کے جوابات ان سائٹیٹرز میں ملیں گے اور اس کی بدولت مقدمات کے جلد فیصلے کرنے میں سہولت ہوگی،چیف جسٹس پاکستان نے بہترین لاء سائئیٹرزز کی تکمیل پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان کو مبارکباد پیش کی،انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی عدلیہ کے لئے باعث فخر ہے کہ پاکستان کی پہلی کمرشل کورٹ پنجاب میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی زیر نگرانی قائم کی گئی ہے،کمرشل معاملات میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کا بلاواسطہ تعلق ملکی معیشت اور سرمایہ کاری سے ہوتا ہے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ حلف لینے کے بعد مختلف پراجیکٹس ترجیحات میں شامل تھے، ان میں بہت سارے پراجیکٹس کو مکمل کیا گیا تاہم کچھ پراجیکٹس کورونا وبا کے باعث مکمل نہیں ہو سکے، انہوں نے مزیدکہا کہ آج سول و فوجداری لاء سائٹیٹرز کی تقریبِ رونمائی ہے جسے بہت مختصر عرصہ میں محنتی نوجوان وکلاء  ہمارے ریسرچ آفیسرز اور ریٹائرڈ سیشن ججوں کی انتھک محنت کی بدولت مکمل کیا گیا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے جوڈیشل افسران ان لاء سائٹیٹرز سے استفادہ کرتے ہوئے مزید موثر فیصلے کریں گے،چیف جسٹس محمد قاسم خان نے مزید کہا کہ آج چیف جسٹس پاکستان نے پنجاب کی پہلی کمرشل کورٹ کا افتتاح بھی کیا ہے، یہ عدالت بھی چیف جسٹس پاکستان کی رہنمائی میں پایہ تکمیل تک پہنچی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ عدالت جلد اور معیاری فیصلوں سے عدلیہ کے وقار میں اضافے کا باعث بنے گی، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا نے پوری دنیا کو متاثر کیا اور ہر ادارے کے کام کو روک دیا لیکن ہم پنجاب کی ضلعی عدلیہ کو مبارک باد دیتے ہیں کہ وبا کے باوجود 2020 ء میں نمٹائے جانے والے فیصلوں کی تعداد 2019 ء میں نمٹائے جانے والے مقدمات سے زیادہ ہے،چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے مزید کہا کہ کورونا وباکے دوران بھی جوڈیشل افسران کی تربیت کا سلسلہ جاری رہا، فزیکل ٹریننگ کی بجائے آن لائن ٹریننگ کورسز کروائے گئے جو جوڈیشل افسران کی استعداد کار میں اضافے کا باعث بنے،تقریب سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے قائم مقام ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی چودھری محمد سلیم نے کہا کہ ضلعی عدلیہ میں کئے جانے والے فیصلے جامع اور بروقت ہونے چاہئیں، اس کیلئے ضروری ہے کہ ججز کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے اور قوانین میں ہونے والی تبدیلیوں سے روشناس کروایا جائے. سول و کریمینل لاء سائٹیٹرز کی بدولت جوڈیشل افسران کو فیصلے کرتے ہوئے بہت سہولت ہوگی، ان سائٹیٹرز میں مختلف سول و فوجداری معاملات سے متعلق سائٹیشنز شامل ہیں. یہ تمام کام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان کی زیر نگرانی پایہ تکمیل تک پہنچا،قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور سجاد حسین سندھڑ اور سینئر سول جج لاہوت مظہر حسین رامے نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا،تقریب کے اختتام پر لاء سائٹیٹرز اور بنچ بک کی تیاری میں حصہ لینے والے وکلاء، ریسرچ آفیسر اور ریٹائرڈ سیشن ججز میں اعزازی شیلڈ بھی تقسیم کی گئیں، تقریب کے موقع پرلاہورئی کورٹ کے سینئرترین جج مسٹرجسٹس محمد امیر بھٹی بھی،مسٹرجسٹس ملک شہزاد احمد خان،مسٹرجسٹس شاہد وحید، مسٹرجسٹس علی باقر نجفی، مسٹرجسٹس شاہد بلال حسن، مسٹرجسٹس سردار احمد نعیم،مسٹرجسٹس اسجد جاوید گورال،لاہور ہائی کورٹ کے دیگر فاضل جج صاحبان، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ ملک مشتاق احمد اوجلہ، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری،سیشن جج ہیومن ریسورس سمیت لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے افسروں و جوڈیشل افسران بھی موجود تھے، مزید برآں صوبہ بھر کے ضلعی ججز بذریعہ ویبینار تقریب میں شریک ہوئے۔اس سے قبل لاہورکی پہلی کمرشل کورٹ کے افتتاح کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کمرشل معاملات کے جلد فیصلے ملکی ترقی کے لئے بہت ضروری ہیں،اس سلسلہ میں پنجاب میں پہلی کمرشل کورٹ کا قیام ایک اہم سنگ میل ہے، چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا کہ اس انقلابی اقدام پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ یقینی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں، چیف جسٹس نے کمرشل کورٹ کے قیام کو سرمایہ کاری اور ملکی معیشت کے لئے بھی اہم قرار دیاہے۔اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس محمد قاسم خان،سینئر ترین جج جسٹس محمد امیر بھٹی،مسٹرجسٹس شاہد کریم، مسٹرجسٹس جواد حسن، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ ملک مشتاق احمد، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری محمد سعید اللہ، سیشن جج ہیومن ریسورس جاوید الحسن چشتی، سیشن جج لاہور سجاد حسین سندھڑ اور سی سی پی او لاہور غلام محمد ڈوگر بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ اول -