تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات

تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات

  

این سی او سی کی طرف سے اجازت کے بعد تعلیمی اداروں میں سلسلہ تعلیم شروع کرنے کا بھی فیصلہ ہو گیا ہے، صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے تحت تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت پنجاب نے پیر(7جون) سے ادارے کھولنے کا اعلان کیا، تحفظ کے لئے حاضری نصف ہو گی، ابتدائی اور پرائمری کلاسوں میں دو سے تین دن تک طلباء و طالبات آئیں گے۔کورونا کے تمام ضابطہ اخلاق اور حفاظتی اقدامات پر عمل ہو گا، طلباء و طالبات ماسک لگا کر تعلیم حاصل کریں گے۔نشستوں میں فاصلہ ہو گا اور سکول کا عملہ حفاظتی ویکسین لگوانے کا پابند  ہو گا،یہ سب بچوں کے تحفظ کے لئے ہے اور تعلیمی اداروں کے عملے کی ویکسی نیشن کو بھی لازمی بنایا گیا ہے،اس فیصلے سے اساتذہ اور والدین خوش اور مطمئن ہیں کہ اب تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوں گی۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان بھی مطمئن ہیں اور ان کی طرف سے ویکسی نیشن اور حفاظتی انتظامات کا یقین دلایا گیا ہے تاہم اسلام آباد سے خبر یہ ہے کہ وہاں نجی تعلیمی اداروں کے صرف 24فیصد عملے کی ویکسی نیشن ہو سکی ہے، دوسرے اضلاع کا علم نہیں، وزارتِ تعلیم کو ایسی کمزوریوں کی طرف دھیان دینا ہو گا کہ بچے جو قوم کا مستقبل ہیں،کسی پریشانی میں مبتلا نہ ہوں،زیادہ ذمہ داری تعلیمی اداروں کے عملہ کی ہے کہ تدریس کے ساتھ حفاظتی عمل کی بھی مکمل نگرانی کی جائے کہ کوئی بھی کیس پھر سے تعطل کا باعث نہ بن جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -