کورونا سے پہلے، کورونا کے بعد  

کورونا سے پہلے، کورونا کے بعد  
کورونا سے پہلے، کورونا کے بعد  

  

کورونا کی وبا پھوٹنے سے ڈیڑھ برس پہلے لندن، کیمبرج اور ریڈنگ میں گزری موسمِ گرما کی آخری چھٹیاں نہیں بھولتیں۔ ایک تو اِس لیے کہ ہم میاں بیوی اور دونوں بچے لگ بھگ چوتھائی صدی کے وقفے سے برطانیہ میں پہلی بار یکجا ہوئے تھے۔ دوسرے اِس دوران سید راشد اشرف کے ساتھ ایک عجیب و غریب مکالمہ بھی ہوا۔ جی ہاں، وہی اصلی تے وڈے راشد اشرف جو بی بی سی میں میرے سینئر ساتھی رہے۔ یہی نہیں بلکہ اپنے ہم عصروں، اُن کے بعد کی نسل اور اب ہماری نئی پود کے لئے وہ نشریاتی صحافت کی قابلِ تقلید مثال بھی ہیں۔ اپنی سالانہ لندن یاترا کی روایت کے مطابق، مَیں نے جاتے ہی فون داغا جس کا مقصد ہمیشہ خواہشِ ملاقات کا اظہار ہوتا ہے۔ بہت خوش ہوئے۔ ساتھ ہی کہا کہ اِس دفعہ وکٹوریہ اسٹیشن پر گراونڈ فلور کے ریستوران میں ملیں گے تاکہ اِس عمر میں ٹرین سے اُتر کر اُنہیں سیڑھیاں نہ چڑھنی پڑیں۔ 

 سیڑھیوں والی بات سے ذرا سا جھٹکا لگا۔ وجہ یہ کہ وقت انسان کے مکانی وجود کی چوتھی جہت ہوتے ہوئے بھی ایک غیر مرئی طاقت ہے جس سے وابستہ تبدیلیاں ہم پہ بسا اوقات یکدم آشکار ہو جاتی ہیں۔ جیسے یہی کہ وکٹوریہ اسٹیشن والی ملاقات سے سال بھر پہلے راشد صاحب اور دردانہ انصاری مجھے اور میرے بیٹے کو بکنگھم پیلس کے گرد و نواح میں منفرد شان والے ایک ڈائیننگ کلب میں لے گئے تھے اور اب ریلوے اسٹیشن پہ ملیں گے۔ پھر بھی اصل نکتہ اَور ہے، جس سے مراد ہے اب تک کی تازہ ترین ملاقات میں راشد اشرف کی زبان سے نکلنے والا ایک جملہ۔ ہماری گفتگو میں کوئی تیسرا آدمی موجود نہیں تھا۔ ”بچوں کا کیا حال ہے؟ نبیلہ کیوں نہیں آئیں؟ ابھی کتنے دن ٹھہرو گے؟“ پھر خاموشی کا ایک طویل وقفہ۔ ”راشد صاحب، کوئی بات سنائیں۔“ اِس پہ ایک بم پھٹا۔ ”بس، باتیں کرنے کی عادت نہیں رہی۔“

 ”باتیں کرنے کی عادت نہیں رہی۔“ ابتدا میں کہا تھا کہ یہ واقعہ کورونا پھوٹنے سے ڈیڑھ برس پیشتر ہوا۔ اب پھر راشد صاحب اور 1942ء میں گیارھویں سکھ رجمنٹ میں کمیشن پانے والے میجر یاور عباس سے ملنے کا ارادہ باندھ رہا ہوں۔ لیکن جو بم کورونا سے پہلے وکٹوریہ اسٹیشن پہ پھٹا کورونا کے بعد اُس کی گونج سفر سے پہلے ہی یہاں بیٹھے سنائی دینے لگی ہے۔ وبا نے جس قیدِ تنہائی سے دوچار رکھا اُس کے ہوتے ہوئے باتیں کرنے کی عادت تو اب مجھے بھی نہیں رہی۔ تو کیا یہ تبدیلی محض ایک عادت تک محدود ہے یا اور بھی بہت کچھ بدل چکا؟ میرے پیشِ نظر پاکستان کے امن پسند شہری ہیں، مجاہدانہ اسپرٹ سے سرشار وہ جوانمرد نہیں جو ایس او پیز کی دھجیاں بکھیر کر بھی اپنی تنومندی پہ اِتراتے رہے۔ بالکل ہمارے والد کے ایک عمر رسیدہ ہمکار کی طرح جو بڑے فخر سے صحیح تلفظ کے ساتھ کہا کرتے تھے: ”نذیر بھائی، قسم قرآن شریف کی۔۔۔ تِیس سال ہو گئے مسجد میں نہیں گیا، پھر بھی ورکس منیجر ہوں۔“

 نیم شعوری عادتیں اُسی طرح تبدیل ہوتی ہیں جیسے فیض احمد فیض کی زبان میں کسی مانوس چہرے کے ٹھہرے ہوئے نقوش ’دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں‘۔ دس سال ہوئے جب دفتر میں کام کرتے ہوئے سوچا کہ کیوں نہ اردو کا مسودہ ٹائپ کرنے کے لئے ’اِن پیج‘ پہ ہاتھ کھولا جائے۔ یہ ایک سیدھا سادہ فونیٹک اسکرپٹ ہے، اِس لئے اندازے سے ٹائپ کرنا شروع کر دیا۔ چند ہی روز میں یوں ہوا کہ پہلے دن ڈیڑھ سو الفاظ کا جو پیرا گراف پون گھنٹے میں تحریر کیا تھا اُس دورانیہ کا طبع زاد متن بڑی سہولت سے دس منٹ میں اسکرین پہ اترنے لگا۔ ہفتے، مہینے اور سال گزرتے گئے اور یاد ہی نہ رہا کہ کاغذ قلم ہاتھ میں لے کر پچھلی بار کب کچھ لکھا تھا۔ اب اِسی سال اپنی کتاب عزیزہ تہنیت نقوی کو پیش کرنے کے لیے دو سطریں لکھنے کی کوشش جو کی تو نام کے ہجے رکاوٹ بن کر رہ گئے۔

کوویڈ کی خود ساختہ قید کے دوران اپنی ذات کی حد تک وقت گزاری کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ آن لائن کلاسوں کے مرحلے پر ریڈیو ٹی وی کا تجربہ اتنا کام آئے گا، اِس کا پیشگی اندازہ نہیں تھا۔ دوپہر تک کا وقت بحسن و خوبی تدریسی سرگرمیوں میں کٹ جاتا یا اُس کارروائی میں جسے مَیں تدریس کہنے پہ مُصر ہوں۔ پھر یہ بھی کہ ماسک اوڑھنا، سماجی فاصلہ رکھنا، بیس بیس سیکنڈ کے لئے صابن سے ہاتھ دھوتے رہنا ایک ایسا معمول ہے جس سے زندگی میں نظم و ضبط کا احساس بھی ہوتا رہا۔ اچھا تو شاہد ملک، اب تکلیف کیا ہے؟ اِس کے لئے ذرا سی ترمیم کے ساتھ راشد اشرف صاحب کے لہجے میں کہہ تو سکتا ہوں کہ بس ملنے ملانے کی عادت نہیں رہی۔ آپ پوچھیں گے کہ صرف ملنا ملانا؟ اِس پہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ نہیں، تہنیت کے ہجے کی طرح صبح صبح اٹھنے، کپڑے بدلنے، شُوں کر کے کار نکالنے اور نہر کنارے ہر روز بچ بچا کر کبھی تیز، کبھی آہستہ یونیورسٹی جانے اور آنے کا سارا پروگرام ہی کریش کر گیا ہے۔

 بدلی ہوئی نفسیات کی یہ سنگینی اُن کی سمجھ میں آسانی سے آ جائے گی جو عمر کے کسی حصے میں ٹانگ، بازو یا کولہے کی ہڈی ٹوٹ جانے پر کئی ماہ تک پلاسٹر چڑھائے رکھنے یا اِس سے مِلتی جُلتی کسی کیفیت سے گزرے ہوں۔ اپنے لڑکپن میں ایسے مناظر یاد ہیں کہ بظاہر مریض کے شفایاب ہونے پر اُس کا پلاسٹر (یا گاؤں دیہات میں پہلوان کی کَس کر باندھی ہوئی پھٹیاں) کھول دینے کا مرحلہ تو آ گیا مگر ساتھ ہی ایک نئی آزمائش شروع ہو گئی۔ پیر زمین پہ نہیں پڑ رہا، بازو کو اوپر اٹھنے، ٹانگ کو بوجھ سہارنے کی عادت نہیں رہی۔ پھر آہستہ آہستہ عادت واپس آ جاتی ہے۔۔۔ لیکن کیا یہ پرانی عادت ہوتی ہے؟ سقوطِ ڈھاکہ کی شام ابھی تک یاد ہے جب ہمارے قومی وجود میں پڑنے والی دراڑ آج تک بھر نہیں سکی اور ہر دم باقی صوبوں کے بارے میں دھڑکا سا لگا رہتا ہے۔ نصف صدی پہلے میونخ کے میدان میں جرمنی کے ہاتھوں تاریخی شکست کھا کر آج تک پاکستان ہاکی ٹیم دوبارہ اٹھ نہیں سکی۔ 

 شہزاد احمد نے ایک غزل میں خزاں کے گزر جانے پر موسمِ گل کی نوید سنائی تھی مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’جو لُٹ چکی ہے وہ دولت کہاں سے آئے گی؟‘ بیس سال پہلے ظفر عباس اور مَیں بی بی سی جرنلسٹ کے طور پر ایک نیم فوجی ٹریننگ میں شریک ہوئے جس کا مقصد ایٹمی حملے میں جانبر ہونے پر ہمیں بدلی ہوئی صورتحال کے لئے تیار کرنا تھا۔ تب عمارتیں ریت کے ڈھیر ہوں گی، مواصلات کا وجود نہیں، کوئی جاننے والا نہیں بچا۔ ہمارا ہونا، نہ ہونا تو ایک برابر ہوا۔ یہ سوچ کر مَیں اور ظفر عباس ہنسنے لگے۔ کورونا کی عطاکردہ بے بسی میں ہنسنے اور رونے کا فرق ابھی برقرار ہے۔ عین اِس وقت یارِ بے بدل اور ایم اے او کالج کے ہر دلعزیز پرنسپل طاہر یوسف بخاری کے گاؤں میں اُن کے لئے قرآن خوانی ہو رہی ہوگی۔ قریبی عزیز شاید میری راہ دیکھ رہے ہیں اور مَیں اِس خوف سے پانی پانی کہ صبح و شام کا ساتھ ایک طرف مگر محفل میں جا کر کہِیں مجھے بھی کورونا نہ ہو جائے۔ میرا یہ خوف شرمساری کا موجب تو ہے، پر یہی زندگی کے تسلسل کی علامت بھی ہے۔ خدا حافظ۔

مزید :

رائے -کالم -