گرم موسم اور سیاسی گرما گرمی

گرم موسم اور سیاسی گرما گرمی
گرم موسم اور سیاسی گرما گرمی

  

مریم نواز خاموش ہیں تو بلاول بھٹو زرداری بول رہے ہیں جیسے کوئی بلے باز آؤٹ ہونے کی پروا کئے بغیر چوکے چھکے مارتا ہے۔ اُدھر وزیراعظم عمران خان بھی روزانہ ایک چھکا ضرور لگا دیتے ہیں،جس سے ماحول میں خاصی گرمی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ بھی لگتا ہے کہ سیاست ٹھنڈی نہیں ہو گئی، چائے کی طرح گرما گرم ہے، البتہ مسلم لیگ(ن) والے اِس بات پر حیران ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری نے جو پریس کانفرنس کی وہ حکومت کے خلاف تھی یا پھر اُن کا روئے سخن مسلم لیگ(ن) بالخصوص محمد نواز شریف کی طرف تھا۔ انہیں سزا یافتہ ہونے کے باوجود نواز کے بیرون ملک جانے پر اب اعتراض کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، پی ڈی ایم کے اچھے دِنوں میں تو وہ نواز شریف کے خلاف حکومتی انتقام کی باتیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔ انہوں نے اب یہ موازنہ کیوں کیا کہ احتساب مسلم لیگ (ن) کے لئے نرم اور پیپلزپارٹی کے لئے سخت ہے، حالانکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کو بھی قید و بند سے اتنا ہی گذرنا پڑا ہے، جتنا پیپلزپارٹی کے لوگ گزرے ہیں۔ ایک تیر سے دو شکار کرنے والے بلاول بھٹو زرداری آخر چاہتے کیا ہیں، کسی کو کچھ معلوم نہیں، جب پی ڈی ایم حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے آخری لائحہ عمل بنا رہی تھی، تو یہ بلاول ہی تھے جنہوں نے راستہ بدل لیا تھا۔ اب بھی وہ حکومت گرانا نہیں چاہتے، بس بیان کی پھلجھڑی چھوڑتے ہیں، جس میں توازن پیدا کرنے کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ(ن) پر بھی تنقید کا تڑکا لگا دیتے ہیں۔

جب سے شہباز شریف متحرک ہوئے ہیں مسلم لیگ(ن) کے جارحانہ بیانات میں کمی آ گئی ہے،البتہ حکومت پر اس کی ناکامیوں کے حوالے سے تنقید جاری ہے۔شہباز شریف شاید یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ بلاول بھٹو زرداری کی کسی ایسی بات کا جواب دیا جائے جو مسلم لیگ(ن) کے حوالے سے کرتے ہیں، وہ چونکہ قومی اسمبلی میں متفقہ اپوزیشن لیڈر ہیں، اِس لئے کسی ایسے تنازع میں نہیں الجھنا چاہتے، جو اُن کے منصب کو نقصان پہنچائے۔ تاہم مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری کی اس بات پر پیچ و تاب ضرور کھا رہی ہوں گی،جو انہوں نے نواز شریف کو باہر بھیجنے کے حوالے سے دیا ہے۔ایسا ہی ایک بیان بلاول بھٹو زرداری نے اس وقت بھی دیا تھا،جب اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی باتیں ہوئی تھیں اور پیپلزپارٹی نے بالواسطہ طور پر مسلم لیگ(ن)کو اسٹیبلشمنٹ کی جماعت قرار دیا تھا،جس کے جواب میں مریم نواز شریف نے ایک سخت بیان کے ذریعے بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کی تھی، بلاول بھٹو زرداری کی باتوں سے تو لگتا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کا ہر دروازہ  بند کر دینا چاہتے ہیں۔ایسی ہر امید کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں جو شہباز شریف یا مولانا فضل الرحمن نے لگا رکھی ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ حکومت پر تنقید کرتے کرتے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو اُس میں ملوث نہ کرتے۔

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان ہیں۔ سیاسی ماحول کو گرمانے میں اُن کا کردار بھی نمایاں ہے، حالانکہ وہ اپوزیشن کو نظر انداز کر کے اپنے حکومتی معاملات پر توجہ دے سکتے ہیں، مگر اُن کی نظر اپوزیشن پر رہتی ہے اور اُس کے بیانات اور سرگرمیوں کو وہ بڑی باریک بینی سے دیکھتے ہیں۔ یہ اُن کا ایک پرانا بیانیہ ہے کہ اپوزیشن  فوج سے  کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت گرانے میں اُس کی مدد کرے،ساتھ ہی انہوں نے یہ طعنہ بھی دیا کہ ایک طرف یہ لوگ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور دوسری طرف منتخب حکومت کو گرانے کے لئے فوج کی مدد مانگتے ہیں۔اپوزیشن بار بار اس بات کا انکار کر چکی ہے کہ اُس نے حکومت گرانے کے لئے فوج سے مدد مانگی ہے، مگر کپتان بھی مسلسل یہی الزام لگا رہے ہیں کہ اپوزیشن فوج کو جمہوری اور منتخب حکومت کے خلاف اُکسا رہی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے کل ہی یہ کہا ہے اسٹیبلشمنٹ حکومت کے پیچھے سے ہٹ جائے تو ایک دن حکومت قائم نہیں رہے گی۔اب اس بات کا مطلب اگر وزیراعظم عمران خان یہ نکالتے ہیں کہ اپوزیشن فوج کو اُکسا رہی ہے تو انہیں کون روک سکتا ہے،ویسے یہ بات بادی النظر میں عجیب لگتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کے پیچھے سے ہٹ جائے۔کیوں ہٹ جائے، وہ تو حکومت کا حصہ ہوتی ہیں اور آئینی طور پر اُسے حکومت کے تابع فرمان رہتا چاہئے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں اپوزیشن سخت ابہام کا شکار نظر آتی ہے۔ایک طرف اس کا مطالبہ ہے کہ ریاستی ادارے سیاست سے دور رہیں اور دوسری طرف وہ ریاستی اداروں سے ایسے مطالبات کرتی ہے،جو انہیں سیاست میں گھسیٹنے کے مترادف ہیں اسی دوعملی کو وزیراعظم عمران خان یہ معانی پہناتے ہیں کہ جمہوریت کے چیمپئن فوج سے مداخلت کی درخواست کرتے ہیں۔

اس سارے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم کردار مولانا فضل الرحمن کا بھی ہے۔اب واحد یہی آواز ایسی رہ گئی ہے، جو ابھی تک اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے،حکومت کو گھر بھیج کے دم لیں گے۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)بڑی حد تک اس مطالبے سے دستبردار ہو چکی ہیں کہ حکومت کو وقت سے پہلے گھر بھیجا جائے۔مریم نواز شریف تو ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ بھی چکی ہیں کہ عمران خان حکومت کو پانچ سال پورے کرنے چاہئیں، جبکہ پیپلزپارٹی عملی طور پر یہ ثابت کر چکی ہے اُسے حکومت  کے قبل از وقت خاتمے سے کوئی دلچسپی نہیں،صرف مولانا فضل الرحمن ہیں جن کی سوئی آج بھی اس بات پر اڑی ہوئی ہے کہ اس ناجائز حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے جن جلسوں کا اعلان کیا گیا ہے، اُن سے حکومت کو گھر بھیجنے میں مدد ملے گی،حالانکہ اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گذر چکا ہے۔پیپلزپارٹی اور اے این پی پی ڈی ایم میں شامل نہیں،خود مسلم لیگ(ن)حکومت کے خاتمے سے دلچسپی نہیں رکھتی اور زمینی حالات بھی  ایسے نہیں کہ حکومت کو کوئی فوری خطرہ ہو۔بس مولانا فضل الرحمن کے لئے یہ لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ  ہو گا۔دوسرے لفظوں میں مولانا فضل الرحمن کے پاس خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لئے اور کوئی راستہ نہیں؟وہ اسمبلی کے ممبر ہوتے تو شاید اپنی بھڑاس اسمبلی کے فلور پر نکال کر ٹھنڈے ہو جاتے۔ اسمبلی سے باہر وہ یہی کچھ کر سکتے ہیں جو گزشتہ تقریباً تین برسوں سے کرتے آ رہے ہیں۔اپوزیشن کے پاس اس وقت سب سے بہترین موقع یہ ہے کہ وہ بجٹ اجلاس میں حکومت کو سخت مقابلے سے دوچار کر دے،اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے،اس سے اپوزیشن کی عوام میں پذیرائی بھی بڑھ جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -