احتجاجی ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی قابل مذمت ہے،پروفیسر فضل ناصر

احتجاجی ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی قابل مذمت ہے،پروفیسر فضل ناصر

  

پشاور(سٹی رپورٹر)پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسو سی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر فضل ناصر نے پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر  کی جانب سے احتجاجی ملازمین سے تنخواہ کٹوتی اور انکو نکال کر  دیگر افراد کو بھرتی کرنے کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر کے اس بیان پر حیرانگی ظاہر کی ہے  جبکہ وائس چانسلر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ فپواسا کے زیر اہتمام احتجاج پیر کے روز بھی جاری رہے گا اور ہر قسم کی تدریسی اور انتظامی امور سے بائیکاٹ ہوگا انہوں نے کہا کہ  اس سے قبل بھی وائس چانسلر نے احتجاج کرنے والے ملازمین سے تنخواہ کی کٹوتی کا اعلامیہ جاری کیا تھا پھر واپس لیا گیا مجھے یقین ہے کہ وائس چانسلر یہ اب بھی اپنا فیصلہ واپس لینگے ڈاکٹر فضل ناصر نے کہا کہ حکومتی مشران اور ادارے کے سربراہ آگ پر پانی ڈالتے ہے لیکن وائس چانسلر کا بیان جلتی پر تیل ڈالنے کے مترداف ہے  انہوں نے  وائس چانسلر کے چھ ماہ سے تنخواہ نہ لینے کے حوالے سے  بیان  کے حوالے سے بتایا کہ تنخواہ کے فیکسیشن میں مسلہ ہے  اور موجودہ وائس چانسلر اضافی تنخواہ کی مانگ کر رہا ہے  اور اس حوالے سے یونیورسٹی کے  اسٹبلیشمنٹ سیکشن نے ایچ ای ڈی سے رہنمائی حاصل کرنے کیلئے رابطہ بھی کیا ہے کہ وائس چانسلر کی کتنی تنخواہ مقرر کی جائے اسی لئے وہ چھ ماہ سے تنخواہ نہیں لے رہے  نہ کہ مالی بحران کی وجہ سے پیوٹا کے صدر نے کہا کہ احتجاجی ملازمین کو نکالنے کی بات بچگانہ ہے اگر یونیورسٹی اتنے ملازمین کو نکالے گی تو انکے  پینشن اور جی بی فنڈ کا بوجھ بھی یونیورسٹی پر پڑے گا کیا یونیورسٹی کے پاس اتنے پیسے ہے اگر ہے پھر تو کوئی مالی مسلہ ہی نہیں، اگر اتنے ملازمین کو نکالا گیا تو نئے ملازمین بھرتی کرنیکا بھی طریقہ کار ہوگا جسمیں وقت لگے اور اس عرصہ میں یونیورسٹی کے معمالات کیسے چلیں گے۔  انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر کی جانب سے مذکرات کیلئے کوئی دعوت نہیں دی گئی ہے تاہم ہم پہلے روز سے ہی مذکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے خواہ تھے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -