وفاقی اورصوبائی بجٹ میں کسانوں کو مراعات دی جائیں، ردعمل

وفاقی اورصوبائی بجٹ میں کسانوں کو مراعات دی جائیں، ردعمل

  

مظفرگڑھ (نامہ نگار)آل پاکستان کسان اتحاد کی سنٹرل ایگزیکٹو کونسل نے ملک میں زرعی شرح پیدوار کی کمی کا سبب زرعی شعبہ میں تحقیق وترقی کے فقدان، سستی بجلی کی عدم دستیابی اور غیر حقیقی اور مفروضہ جات پر مبنی سرکاری زرعی پالیسی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت(بقیہ نمبر44صفحہ7پر)

 مربوط اور منظم زرعی مارکیٹنگ نظام بنائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، وفاقی اور صوبائی بجٹ میں کسانوں کو مراعات دی جائیں، سولر انرجی پینلز کی قیمت کم کی جائے، کمیٹی نے میپکو سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے کسانوں کو بجلی کے اوور بلنگ اور ناجائز مختلف النوع ٹیکسز کے غیر معمولی بلز ارسال کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو خبردار کیا ہے کہ بجلی کی کمپنیاں یہ پریکٹس بند کر دیں، بصورت دیگر احتجاج اور گھیرا کیا جائے گا، بجلی کے بلوں کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، جلد ہی وفد چیئرمین نیپرا سے ملاقات کرے گا، آل پاکستان کسان اتحاد کی مرکزی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس مرکزی سیکرٹریٹ میں ہفتہ کے روز زیر صدارت چیئرمین ڈاکٹر محمد رانجھا منعقد ہوا، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ موجودہ زرعی قوانین کو تبدیل کر کے کسانوں کی ضروریات کے موافق بنایا جائے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر جاوید احمد، سیکرٹری جنرل رانا محمد ظفر طاہر، سیکرٹری اطلاعات پنجاب رانا امجد علی امجد ایڈووکیٹ، صوبائی صدر پنجاب میاں محمد یاسین سکھیرا، فنانس سیکرٹری میاں امجد محمود، ممبران پروفیسر حکیم محمود احمد بھٹی، صوبائی سیکرٹری جنرل سید محمود الحسن شاہ، حاجی اختر سکھیرا نے کہا کہ حکومت کسانوں کو ریلیف اور سبسڈی کا لالچ دینے کی بجائے کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ صنعت کاروں نے ہمیشہ کسانوں کا استحصال کیا ہے، حکومت کا پالیسی سازی میں سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز کسانوں کو شامل نہ کرنا باعث تشویش ہے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ناقص کارکردگی کے حامل عہدے داران کو شوکاز نوٹس جاری کئے جائیں گے، اجلاس میں تنظیم سازی، ضلعی سطح پر دفاتر کے قیام، یوتھ ونگ کو فعال بنانے، فنانس سمیت پارٹی کے دیگر معاملات پر بھی غوروخوص کیا گیا۔

کسان اتحاد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -