ضلع ملتان: عدالتوں میں 66ہزار سے زائد مقدمات زیر سماعت 

ضلع ملتان: عدالتوں میں 66ہزار سے زائد مقدمات زیر سماعت 

  

  

 ملتان (  خصو صی  رپورٹر  )روایتی انداز میں چلنے والے دیوانی اور فوجداری مقدمات ملک بھر کی طرح ضلع ملتان (بقیہ نمبر42صفحہ6پر)

میں بھی فیصلوں کے منتظر ہیں۔ رواں سال بھی ہزاروں مقدمات پولیس کے عدم تعاون،وکلا ہڑتالوں، ججز،عدالتوں اور جدت کی کمی کے باعث التوا کا شکار رہے۔معاشرتی ناانصافیوں، عدم برداشت اور تعلیم کی کمی کے باعث ضلع ملتان کی عدالتیں سال 2021 میں بھی مقدمات کے بوجھ تلے ڈوبی رہیں۔سال بھر میں وکلا کی ہڑتالوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق 60 روز بنتی ہے۔رواں سال ملتان کی عدالتوں میں کئی اہم نوعیت کے کیسز کی سماعت جاری رہی جن میں چیرمین عوامی راج پارٹی و سابق ایم این اے جمشید دستی کا جعلی ڈگری کیس، ایم این اے ابراہیم خان کے خلاف قبضہ کیس، پی ڈی ایم جلسے میں پابندی کے باوجود خلاف ورزی کرنے والے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے و سابق ایم این اے علی موسی گیلانی، سابق لیگی ایم این اے شیخ طارق رشید، لیگی ڈویژنل صدر کی ضمانتیں اجماعتی بداخلاقی کے ملزمان، لیگی رہنما جاوید ہاشمی کے داماد زاہد بہار ہاشمی سمیت دیگر شامل ہیں۔ سال 2019 میں ملتان کی ضعلی عدالتوں میں 63 ہزار مقدمات زیر التوا تھے لیکن 2020 میں سابق منصف اعلی کی جانب سے ملک بھر میں ماڈل کورٹس کے قیام کا حکم دیا گیا تھا۔ ماڈل کورٹس نے سالہا سال سے لٹکے قتل، ڈکیتی، چوری، بوگس چیک، تشدد، منشیات سمیت مختلف مقدمات کو جلد نمٹانے میں اہم کردار ادا کیا اسی سبب گزشتہ سال زیر التوا مقدمات میں واضح کمی نظر آئی تھی اور مجموعی پور پر التوا کیسز کی تعداد 52 ہزار 5 سو 89 رہ گئی ہے۔ تاہم اس سال کورونا کی وبا کے دوران کئی ماہ تک ریگولر مقدمات کی سماعت معطل رہی جس کے سب اس سال التوا کا شکار مقدمات کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ جس کے سبب گز شتہ ماہ   کے آخر تک 66 ہزار مقدمات زیر سماعت رہے۔

وکلا ہڑتال

مزید :

ملتان صفحہ آخر -