امریکی ایئر لائن کا آواز کی رفتار سے تیز مسافر طیارے خریدنے کا اعلان

امریکی ایئر لائن کا آواز کی رفتار سے تیز مسافر طیارے خریدنے کا اعلان
امریکی ایئر لائن کا آواز کی رفتار سے تیز مسافر طیارے خریدنے کا اعلان
سورس: Twitter/@united

  

نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی ایئر لائن یونائیٹڈ نے سال 2029 تک آواز کی رفتار سے تیز اڑنے والے 15 نئے سپر سونک مسافر طیارے خریدنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

اوورچر نامی یہ سپرسونک مسافر طیارے ڈینور میں قائم بوم سپر سونک نامی کمپنی سے خریدے جائیں گے، تاہم ابھی تک ان کی جانچ اور آزمائی پرواز کے بارے میں کمپنی نے تصدیق نہیں کی ہے۔

سال 2019 میں بوم سپر سونک‘ نے اپنا ایکس بی 1 آزمائشی سپرسونک (آواز کی رفتار سے تیز) طیارہ متعارف کروایا تھا۔ 

اگرچہ یونئیٹڈ ایئر کو طیاروں کے فروخت کے حوالے سے شرائط  سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن کمپنی سمجھتی ہے کہ اس معاہدے سے اسے فوری فوائد حاصل ہوں گے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ’بوم سُپر سونک‘ نامی کمپنی نے آواز کی رفتار سے تیز فضا میں اڑنے والے مسافر طیارے کو ’اوورچر سپر سوئنگ ایئر کرافٹ‘ کا نام دیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ’یہ طیارہ امریکا سے لندن کا سات گھنٹے کا سفر صرف ساڑھے تین گھنٹے میں طے کرسکیں گے جبکہ سان فرانسسکو سے ٹوکیو کی مسافت 6 گھنٹے میں طے کی جاسکے گی۔

خیال رہے کہ سپرسونک مسافر طیاروں کی پروازیں 2003 میں ختم ہوگئی تھیں جب ائیر فرانس اور برٹش ایئرویز نے کونکورڈ کو ریٹائر کیا تھا۔

یونائیٹد ایئر نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت نئے طیاروں کی حفاظت کے معیار پر پورا اترنا مشروط ہے۔

سپرسونک اڑان وہ ہوتی ہے جب ہوائی جہاز آواز کی رفتار سے  تیز 60،000 فٹ کی بلندی پر 1،060 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔

عام مسافر طیارہ تقریب 900 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے لیکن توقع کی جارہہ ہے کہ اوورچر کی رفتار 1،805 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ اس رفتار سے لندن سے نیویارک کا سفر نصف  ہوجائے گا۔

کونکورڈ  کے مسافر طیاروں کی رفتار تقریبا 1،350 میل فی گھنٹہ (2180 کلومیٹر فی گھنٹہ)  سے زیادہ تھی۔

نئے سپرسونک مسافروں کے حوالے سے شور اور آلودگی کے حوالے سے خدشے بھی ظاہر کیے جارہے ہیں۔

بوم کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ ان طیاروں کی آواز اور شور دوسرے جدید مسافر طیاروں کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہوگی جو پرواز یا لینڈنگ  کے دوران ہوتی ہے۔

بوم کے چیف کمرشل آفیسر کیتھی ساویٹ نے بی بی سی کو بتایا   کہسپرسونک کو اڑانے کے لیے آپ کو زیادہ طاقت اور زیادہ ایندھن کی ضرورت ہوگی۔ لیکن توقع ہے کہ اوورچر سے خالص صفر کاربن ہوائی جہاز کے طور پر کام کیا جائے گا۔

 چونکہ اس کی بنیاد 2014 میں رکھی گئی تھی ، ڈینور میں مقیم بوم سپرسنک نے دارالحکومت میں capital 270 ملین اکٹھا کیا ہے اور اس کی تعداد 150 ہوگئی ہے۔ بانی اور سی ای او بلیک شول کے ل a ، میراثی ایئر لائن کے ساتھ مستحکم آرڈر اتارنے سے سپرسونک پروازیں واپس لانے کے ان کے وژن کی توثیق ہوتی ہے۔

سپرسونک کونکورڈ نے 1976 سے اکتوبر 2003 تک تجارتی پروازیں اڑائیں۔

سکل نے ایک بیان میں کہا ، “خالص صفر کاربن سپرسونک ہوائی جہاز کے لئے دنیا کا پہلا خریداری کا معاہدہ ایک قابل رسائی دنیا پیدا کرنے کے ہمارے مشن کی سمت ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -