بنی اسرائیل کا وہ بزرگ جس نے شیطان پر فتح حاصل کی

بنی اسرائیل کا وہ بزرگ جس نے شیطان پر فتح حاصل کی
بنی اسرائیل کا وہ بزرگ جس نے شیطان پر فتح حاصل کی

  

حضرت ذوالکفل کا قرآن و حدیث یا سابقہ آسمانی کتابوں میں کوئی تفصیلی ذکر نہیں ملتا جس کے باعث ان کے نبی ہونے پر حتمی رائے نہیں قائم کی جاسکتی البتہ قرآن پاک میں آپ کا دو جگہ ذکر کیا گیا ہے، سورۃ الانبیا میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔۔۔

’ اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل یہ سب صبر کرنے والے تھے اور ہم نے ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا تھا ، بلاشبہ وہ سب صالحین میں سے تھے۔

سورہ ص میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔۔۔

’اور یاد کرو اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو، وہ سب نیک بندوں میں سے تھے‘

قرآن کریم میں آپ کا ذکر حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعات کے بعد کیا گیا ہے جس  کے باعث بعض محدثین انہیں حضرت ایوب علیہ السلام کا بیٹا قرار دیتے ہیں ، بعض مورخین و محدثین حضرت ذوالکفل کو اللہ کا نبی جبکہ بعض لوگ انہیں نیک شخص قرار دیتے ہیں، شام اور عراق سمیت دیگر مقامات پر آپ سے منسوب مزارات موجود ہیں۔

حضرت ذوالکفل سے منسوب ایک دلچسپ واقعہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے، آپ لکھتے ہیں کہ ۔۔۔

جب اللہ کے نبی حضرت الیسع علیہ السلام ضعیف ہو گئے تو خواہش ظاہر کی کہ’’ کاش! اپنے مرنے سے پہلے کسی نیک اور صالح شخص کو اپنا خلیفہ مقرّر کر دیتا تاکہ وہ میرے بعد دین کے جملہ معاملات بخُوبی پورے کر پاتا اور مَیں اپنی موجودگی میں اُس کی تربیت بھی کر دیتا تاکہ مرنے سے پہلے بنی اسرائیل کی فکر سے آزاد ہو جاتا۔

ایک دن حضرت الیسع علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو جمع کیا اور فرمایا’’ اے لوگو! تم دیکھتے ہو کہ مَیں بہت بوڑھا ہو چُکا ہوں۔ مَیں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں ہی تم میں سے کسی صالح شخص کو اپنا خلیفہ نامزَد کر دوں، لیکن مَیں اُسے ہی خلیفہ بنائوں گا، جو تین شرائط پر پورا اُترتا ہو۔ پہلی شرط تو یہ کہ وہ دن میں روزہ رکھتا ہو۔ دوسری یہ کہ رات کو اللہ کی یاد میں مشغول رہتا ہو اور تیسری یہ کہ اُسے غصّہ نہ آتا ہو۔

اللہ کے نبی کی یہ تین شرائط سن کر بنی اسرائیل پر سکتہ طاری ہوگیا اور ان میں سے کوئی بھی ان شرائط پر عمل کیلئے راضی نہ ہوا، اتنے میں اچانک دُور کونے میں بیٹھا ایک عام سا آدمی کھڑا ہوا اور بولا’’ مَیں آپؑ کی تینوں شرائط پر پورا اُتروں گا۔‘‘

حضرت الیسعؑ نے اپنی شرائط دُہراتے ہوئے پوچھا’’ کیا تم تینوں پر پورا اُترتے ہو؟‘‘ اُس نے جواب دیا’’ جی ہاں۔‘‘ آپؑ نے کوئی جواب نہیں دیا اور مجلس دوسرے روز تک کے لیے برخاست کر دی۔ اگلے دن حضرت الیسعؑ نے پھر اپنا سوال دُہرایا۔ مجمع خاموش تھا، وہی شخص کھڑا ہوا اور بولا’’ مَیں آپؑ کی شرائط پر قائم رہنے کا عہد کرتا ہوں۔‘‘ لہٰذا حضرت الیسعؑ نے اُنہیں اپنا خلیفہ بنا دیا ، وہ شخص حضرت ذوالکفلؑ تھے۔

جس مجلس میں یہ سارا واقعہ پیش آیا اس میں ابلیس بھی موجود تھا اور ایک کونے میں بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا، اس سے حضرت ذوالکفل کی یہ برگزیدگی برداشت نہ ہوئی اور اپنے چیلوں کو حکم دیا کہ ذوالکفلؑ کو راہِ راست سے ہٹانے کی بھرپور کوشش کرو، شیطان کے چیلوں نے بڑی کوششیں کیں لیکن جلد ہی ناکام ہو گئے، جس کے بعد ابلیس نے یہ کام خود اپنے ذمے لے لیا۔۔۔۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -