حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بننے پر کیوں کپکپائے؟ وہ خلیفہ جس کے دور میں بھیڑیے بکریوں کی حفاظت کرتے تھے

حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بننے پر کیوں کپکپائے؟ وہ خلیفہ جس کے دور میں ...
حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بننے پر کیوں کپکپائے؟ وہ خلیفہ جس کے دور میں بھیڑیے بکریوں کی حفاظت کرتے تھے

  

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ عالم اسلام کی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جن کا بدل اس امت میں آج تک نہیں آیا، انہوں نے عدل کی وہ مثال قائم کی کہ انہیں پانچواں خلیفہ راشد قرار دیا جانے لگا، سیدنا عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بننے سے پہلے نہایت پر تکلف اور قیمتی لباس پہنتے تھے‘ لیکن خلیفہ ہونے کے بعد انہوں نے کھانے اور پہننے میں بالکل درویشانہ روش اختیار کرلی تھی‘ آپ کے خلیفہ بننے کا واقعہ انتہائی دلچسپ ہے۔

جب خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کا انتقال ہوا تو رجاء بن حیات  وابق کی مسجد میں گئے‘ تمام بنو امیہ اور لشکر کے سرداروں کو جمع کیا، ان کے پاس خلیفہ کا سر بمہر فرمان تھا‘ انہوں نے سب کو خلیفہ کے فوت ہونے کی خبر سنا کر دوبارہ اس ملفوف سر بمہر فرمان پر لوگوں سے بیعت لی‘ پھر سب کے سامنے اس فرمان کو کھول کر پڑھا اور لوگوں کو سنایا‘ اس میں سلیمان بن عبدالملک نے لکھا تھا کہ۔۔۔

’یہ تحریر بندہِ خدا امیر المومنین سلیمان بن عبدالملک کی طرف سے عمر بن عبدالعزیز کے نام ہے‘ میں نے اپنے بعد تم کو اور تمہارے بعد یزید بن عبدالملک کو خلافت کا ولی عہد مقرر کیا‘ پس لوگوں کو چاہیے کہ وہ سنیں اور اطاعت کریں اور اللہ سے ڈریں اور آپس میں اختلاف نہ کریں تاکہ دوسروں کو تمہارے مغلوب کرنے کی طمع نہ ہو۔‘

اس فرمان کو سن کر ہشام بن عبدالملک نے کہا کہ ہم عمر بن عبدالعزیز کی بیعت نہ کریں گے‘ مگر رجاء بن حیات نے جرأت سے کام لے کر نہایت سختی سے فوراً جواب دیا کہ میں تمہاری گردن اڑا دوں گا‘ ہشام یہ سن کر خاموش ہو گیا‘ عبدالملک کی اولاد اس وصیت اور فرمان کو اپنی حق تلفی کا موجب سمجھتی تھی‘ لیکن عام طور پر لوگ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے خلیفہ ہونے کو بہت ہی پسند کرتے تھے‘ ادھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے بعد یزید بن عبدالملک کو چونکہ خلافت کے لیے ولی عہد بنا دیا گیا تھا‘ لہٰذا اولاد عبدالملک کو کسی قدر تسکین بھی ہوتی تھی کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے بعد خلافت پھر ہمارے ہی گھرانے میں آجائے گی۔

جب رجاء نے سلیمان کا مذکورہ وصیت نامہ سنایا‘ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ  اللہ خلافت کے لیے اپنا نام سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے لگے اور اپنی جگہ بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے‘ رجاء بن حیات نے ہاتھ پکڑ کر انہیں اٹھایا اور منبر پر لے جا کر بٹھادیا‘ سب سے پہلے ہشام ابن عبدالملک کو بلایا کہ آکر بیعت کرو‘ ہشام بن عبدالملک آیا اور آکر بیعت کی‘ ہشام کی بیعت کے بعد سب لوگوں نے بخوشی بیعت کرلی۔

خلافت کی بیعت کے بعد سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لوگوں کو مخاطب کر کے تقریر کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

’ لوگو! قرآن کے بعد ایسی کوئی کتاب نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی نہیں‘ میں کسی چیز کو شروع کرنے والا نہیں بلکہ پورا کرنے والا ہوں‘ میں ابتدا کرنے والا نہیں‘ اتباع کرنے والا ہوں‘ میں کسی حال میں تم سے بہتر نہیں ہوں‘ البتہ میرا بوجھ بہت زیادہ ہے‘ جو شخص ظالم بادشاہ سے بھاگ جائے وہ ظالم نہیں ہو سکتا‘ یاد رکھو کہ احکام الٰہی کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے۔‘

آپ جب اپنے گھر میں بیعت خلافت سے فارغ ہو کر داخل ہوئے‘ تو آپ کی داڑھی آنسوئوں سے بھیگی ہوئی تھی‘ آپ کی بیوی نے گھبرا کر پوچھا‘ کیوں خیریت تو ہے‘ آپ نے فرمایا کہ خیریت کہاں ہے‘ میری گردن میں امت محمدی کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے‘ ننگے‘ بھوکے‘ بیمار‘ مظلوم‘ مسافر‘ قیدی‘ بچے‘ بوڑھے‘ کم حیثیت‘ عیال دار وغیرہ سب کا بوجھ میرے سر پر آن پڑا ہے‘ اسی خوف میں رو رہا ہوں کہ کہیں قیامت میں مجھ سے پرسش ہو اور میں جواب نہ دے سکوں۔

عبدالعزیز بن ولید خلیفہ سلیمان کی وفات کے وقت موجود نہ تھا‘ نہ اس کو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی بیعت کا حال معلوم تھا‘ سلیمان کی وفات کا حال سن کر اس نے خلافت کا دعویٰ کیا اور فوج لے کر دمشق کی جانب آیا‘ جب دمشق کے قریب پہنچا اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خلافت کا حال سنا‘ تو بلا توقف ان کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی اور کہا کہ آپ کے ہاتھ پر بیعت ہونے کا حال مجھ کو معلوم نہیں تھا‘ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر تم خلافت اور حکومت لینے پر مستعد ہوتے تو میں ہرگز تمہارا مقابلہ نہ کرتا اور لڑائی کے پاس نہ جاتا بلکہ اپنے گھر بیٹھ جاتا‘ عبدالعزیز بن ولید نے کہا کہ واللہ میں آپ کے سوا کسی دوسرے کو مستحق خلافت نہیں سمجھتا۔

آپ بطور خلیفہ انتہائی احتیاط کے ساتھ عمال مقرر کرتے تھے اور ذرا سی کوتاہی بھی برداشت نہیں کرتے تھے، آپ نے جراح بن عبداللہ حکمی کو خراسان کی گورنری پر بھیجا لیکن ۔۔۔۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -