وہ خلیفہ وقت جن کے پاس پہننے کو ایک کرتا تھا، جن کی قبر پہ آسمان سے ایک کاغذ گرا، اس پر کیا لکھا تھا؟

وہ خلیفہ وقت جن کے پاس پہننے کو ایک کرتا تھا، جن کی قبر پہ آسمان سے ایک کاغذ ...
وہ خلیفہ وقت جن کے پاس پہننے کو ایک کرتا تھا، جن کی قبر پہ آسمان سے ایک کاغذ گرا، اس پر کیا لکھا تھا؟

  

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کو پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے، آپ کے دور میں زمین عدل و انصاف سے بھر گئی جس کی وجہ سے آپ کو حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد پانچواں خلیفہ راشد قرار دیا جاتا ہے، آپ جب تک خلیفہ نہیں بنے تھے تب تک آپ کے مال و دولت کا انداہ کرنا بھی مشکل ہے لیکن جیسے ہی یہ بارِ گراں آپ کے کندھوں پر آیا تو آپ نے اتنی سادہ زندگی اختیار کی کہ اس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی، آپ نے اپنا سارا مال و دولت بیت المال میں جمع کرادیا یہاں تک کہ اپنی بیوی کے زیورات بھی مسلمانوں کے خزانے میں جمع کرادیے۔

آپ کا تعلق بنو امیہ سے تھا، آپ کے خاندان نے اپنی خلافت و حکومت کے زمانے میں اچھی اچھی جاگیروں پر اپنے استحقاق سے زیادہ قبضہ کر لیا تھا، جس میں دوسرے مسلمانوں کی حق تلفی ہوئی تھی، مگر چوں کہ بنو امیہ حکمران تھے‘ اس لیے کوئی چون و چرا نہیں کر سکتا تھا‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے‘ تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی بیوی کے زیورات جن میں وہ بلا استحقاق مال کی آمیزش سمجھتے تھے‘ اپنے گھر سے نکلوا کر بیت المال میں بھجوائے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے تمام رشتہ داروں اور تمام بنو امیہ سے وہ تمام جائدادیں اور اموال و سامان واپس کرائے جو ناجائز طور پر ان کے قبضہ و تصرف میں تھے۔

اوزاعی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک روز حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مکان میں بنو امیہ کے اکثر اشراف و سردار بیٹھے ہوئے تھے‘ آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تمہاری یہ خواہش ہے کہ میں تمہیں کسی لشکر کا سردار اور کسی علاقہ کا مالک و حاکم بنادوں‘ لیکن یاد رکھو! میں اس بات کا بھی روادار نہیں ہوں‘ کہ میرے مکان کا فرش تمہارے پیروں سے ناپاک ہو‘ تمہاری حالت بہت ہی افسوس ناک ہے‘ میں تم کو اپنے دین اور مسلمانوں کے اغراض کا مالک کسی طرح نہیں بنا سکتا‘ انہوں نے عرض کیا کہ کیا ہم کو بوجہ قرابت کوئی حق اور کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس معاملے میں تمہارے اور ایک ادنیٰ مسلمان کے درمیان میرے نزدیک رتی برابر فرق نہیں ہے۔

مسلمہ بن عبدالملک کا قول ہے کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی عیادت کے لیے گیا تو دیکھا کہ وہ ایک میلا کرتا پہنے ہوئے ہیں‘ میں نے اپنی بہن یعنی ان کی بیوی سے کہا کہ تم ان کا کرتا دھو کیوں نہیں دیتیں‘ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس دوسرا کرتا نہیں ہے کہ اس کو اتار کر اسے پہن لیں۔

سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے غلام ابو امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز اپنے آقا کی خدمت میں عرض کی کہ مسور کی دال کھاتے کھاتے ناک میں دم آگیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ تمہارے آقا کا بھی روز کا یہی کھانا ہے۔

ایک روز اپنی بیوی سے کہا کہ انگور کھانے کو جی چاہتا ہے‘ اگر تمہارے پاس کچھ ہو تو دو‘ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کوڑی بھی نہیں‘ تم باوجودیکہ امیر المومنین ہو تمہارے پاس اتنا بھی نہیں کہ انگور لے کر کھا لو‘ آپ نے فرمایا کہ انگوروں کی تمنا دل میں لے جانا بہتر ہے‘ بہ نسبت اس کے کہ کل کو دوزخ میں زنجیروں کی رگڑیں کھائوں۔

عمر بن مہاجر کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا جی انار کھانے کو چاہا‘ آپ کے ایک عزیز نے انار بھیج دیا‘ آپ نے اس کی بہت ہی تعریف کی اور اپنے غلام سے فرمایا کہ جس شخص نے یہ بھیجا ہے اس سے میرا سلام کہنا اور یہ انار واپس کر کے کہہ دینا کہ تمہارا ہدیہ پہنچ گیا‘ غلام نے کہا کہ امیر المومنین یہ تو آپ کے قریبی عزیز نے بھیجا ہے اس کو رکھ لینے میں کیا مضائقہ ہے‘ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی تو ہدیہ قبول فرما لیا کرتے تھے‘ آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہدیہ تھا‘ مگر ہمارے لیے رشوت ہے۔

رجاء بن حیات  کہتے ہیں کہ ایک روز میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ چراغ گل ہو گیا‘ وہیں آپ کا غلام سو رہا تھا‘ میں نے چاہا کہ اسے جگا دوں‘ آپ نے منع فرما دیا‘ پھر میں نے چاہا کہ میں خود اٹھ کر چراغ جلا دوں‘ آپ نے فرمایا‘ کہ مہمان کو تکلیف دینا خلاف مروت ہے‘ آپ خود اٹھے اور تیل کا کوزہ اٹھا کر چراغ میں تیل ڈالا‘ اور اس کو جلا کر پھر اپنی جگہ آبیٹھے اور فرمایا‘ کہ میں اب بھی وہی عمر بن عبدالعزیز ہوں جو پہلے تھا‘ یعنی چراغ جلانے سے میرے مرتبہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: کہ لوگو اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘ اور طلب رزق میں مارے مارے نہ پھرو‘ رزق مقسوم اگر پہاڑ یا زمین کے نیچے بھی دبا ہوا ہو گا تو پہنچ کر رہے گا۔۔۔۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -