کورونا ویکسین لگوائیں۔زندگی محفوظ بنائیں 

کورونا ویکسین لگوائیں۔زندگی محفوظ بنائیں 
کورونا ویکسین لگوائیں۔زندگی محفوظ بنائیں 

  

اللہ تعالی کے فضل و کرم اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت  کے بروقت اور جراتمندانہ فیصلوں کے نتیجے میں کرونا وبا کی تیسری لہر میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں تعلیمی اور سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں خاص طور پر طلبہ جن کی تعلیم گزشتہ سال سے بری طرح متاثر ہے اب ان کی تعلیم کا سلسلہ جزوی طور پر بحال ہو رہا ہے۔ معاشی ترقی بھی رفتار پکڑ رہی ہے اور کرونا کی صورتحال میں پہلی بار جی ڈی پی پانچ فیصد تک پہنچ رہی ہے ،اس وقت ضرورت اس امر کی ہے ہم کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو سنجیدہ لیں اور ساتھ ہی بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کی طرف جائیں ۔حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کرونا ویکسین نہ صرف کرونا وائرس سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ وائرس سے متاثرہ لوگوں میں قوت مدافعت بھی بڑھا دیتی ہے۔بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی ویکسی نیشن وائرس سے متاثرہ لوگوں میں قدرتی مدافعت بڑھا دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ تبدیل شدہ شکل کی حامل کرونا وائرس سے بھی انہیں ممکنہ طور پر محفوظ رکھتی ہے۔

امریکا کی راک فیلیئر یونیورسٹی کے محققین نے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے خون کا تجزیہ کیا تو انھیں ان مالیکیولز کے ارتقا کا اندازہ ہوا جو کہ مریضوں میں ویکسی نیشن کے بعد ڈیولپ ہوئے تھے۔وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت ویکسین کی سپلائی پر اربوں روپے خرچ کررہی ہے-عوام کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد ویکسی نیشن کروائیں۔ دریں اثنا

عالمی ادارہٴ صحت نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی مہلک بیماری کووڈ انیس کے لیے چین کی تیارہ کردہ ایک اور ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ منظور کی گئی ویکسین کا نام سائنو ویک ہے۔

یہ دوسری چینی ویکسین ہے، جس کی عالمی ادارے نے منظوری دی ہے۔ اس ویکسین کو سائنو ویک بائیوٹیک نامی چینی ادارے نے تیار کیا ہے۔ رواں برس اپریل میں عالمی ادارہٴ صحت نے سائنو فارم نامی ویکسین کی منظوری دی تھی۔

پاکستان میں کووڈ انیس کے سبب ہلاکتوں میں اضافہ: ماہرین کیا کہتے ہیں؟

اس طرح اب تک ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن چھ مختلف ویکسینز کی منظوری دے چکی ہے۔ بقیہ چار ویکسینز میں بائیو این ٹیک فائزر، موڈیرنا، ایسٹرا زینیکا اور جانسن اینڈ جانسن شامل ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ سائنو ویک کو غریب،کم ترقی یافتہ اور کمزور معیشت والے ممالک کے لیے وقف ویکسین کے بین الاقوامی پروگرام کوویکس میں شامل کیا گیا ہے۔

رواں برس اپریل میں عالمی ادارہٴ صحت نے سائنو فارم نامی ویکسین کی منظوری دی تھی

عالمی عدم مساوات

چینی ویکسین کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے عالمی ادارہٴ صحت کی نائب ڈائریکٹر جنرل ماریانگیلا سیماؤ نے کہا کہ دنیا بھر میں کووڈ انیس بیماری سے نمٹنے کے لیے بہت ساری ویکسینز کی ضرورت ہے اور اس میں فی الحال عدم مساوات پائی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے دوا ساز اداروں سے کہا ہے کہ وہ کوویکس پروگرام میں شامل ہو کر اپنا علم اور معلومات شیئر کریں تا کہ وبا کو کنٹرول کیا جائے۔

عالمی ادارہٴ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہنوم گبرائسس نے چینی ویکسین سائنو ویک کو محفوظ اور موثر قرار دیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کے مطابق اس ویکسین کا ذخیرہ کرنا مشکل نہیں کیونکہ یہ شدید موسم میں بھی محفوظ رہتی ہے۔ گبرائسس نے امید ظاہر کی کہ اب زندگی بچانے کی ویکسینز دستیاب ہونے لگی ہیں اور ان کا استعمال بھی مختلف علاقوں میں جلد از جلد کرنا ہو گا۔

سائنو ویک کا استعمال

عالمی ادارہٴ صحت کے ماہرین کے ایڈوائزری گروپ کے نزدیک چینی ویکسین کی تیسرے مرحلے میں افادیت اکاون سے چوراسی فیصد تک رہی تھی۔ انڈونیشیا میں ایک لاکھ بیس ہزار ہیلتھ ورکرز کو سائنو ویک لگائی گئی اور مثبت نتائج چورانوے فیصد رہے۔ چین اور بیرونی ممالک میں رواں برس مئی تک اس ویکسین کی چھ سو ملین خوراکیں لوگوں کی دی گئیں۔ یہ ویکسین دنیا کے بائیس ممالک میں استعمال کی جا رہی ہے۔ ان ممالک میں انڈونیشیا، برازیل اور ترکی بھی شامل ہیں۔

برازیل میں سائنو ویک کے انجیکشن کے آزمائشی تجربات سیرانا نامی قصبے میں کیے گئے۔ اس ویکسین کے لگانے سے سیرانا میں کورونا وبا پر قابو پایا گیا اور اس کے مریضوں میں واضح کمی پیدا ہوئی۔ قصبے کی پچھہتر فیصد آبادی میں اس کے مؤثر ہونے کی شرح بہت بہتر رہی اور اموات میں پچانوے فیصد کمی ہوئی۔

سائنو ویک صرف بالغ افراد کے لیے

عالمی ادارہٴ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ سائنو ویک ویکسین اٹھارہ اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس کی دو خوراکوں میں چار ہفتے کا وقفہ ضروری ہے۔

سائنو ویک کی آزمائش ساٹھ برس سے زائد عمر کے افراد پر کم کی گئی ہے اور اسی باعث عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا کہ اس حوالے سے کم معلومات دستیاب ہیں۔ اس کے باوجود ڈبلیو ایچ او نے عمر کی بالائی حد کا تعین نہیں کیا ہے۔

 پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر  اندرولا کامینارا نے  کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی اموات میں مسلسل کمی آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے کورونا کی روک تھام کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن ، ٹیسٹنگ اور کورونا کیسز کا سراغ لگانے کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔

یورپی یونین کی سفیر نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل اور آبادی کےپس ماندہ طبقات کی مشکلات کے ازالے کے لیے کیے گئے حکومتی اقدامات کو بھی سراہا۔

مزید :

بلاگ -