15جون تک سندھ کا پانی بحال کیا جائے ورنہ۔۔۔ نثار احمد کھوڑو نے وفاقی حکومت کو سخت وارننگ دے دی

15جون تک سندھ کا پانی بحال کیا جائے ورنہ۔۔۔ نثار احمد کھوڑو نے وفاقی حکومت کو ...
15جون تک سندھ کا پانی بحال کیا جائے ورنہ۔۔۔ نثار احمد کھوڑو نے وفاقی حکومت کو سخت وارننگ دے دی

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پیپلزپارٹی سندھ کے صدرنثارکھوڑونے کہاہے کہ وفاق کی جانب سے سندھ کے ساتھ پانی پر زیادتی کے خلاف آبادگاروں کسانوں کاشتکاروں کا آواز بننا ذمہ داری ہے،تونسہ بیراج سے لے کر گڈو تک پانی کا چوری کیا جا رہا ہے ،ارسا پانی کی چوری بند کروائے اور چشمہ جہلم ٹی پی لنک کینال بند کروائے،15جون تک سندھ کا پانی بحال کیا جائے ورنہ ذمہ دار وفاقی حکومت اور ارسا پرہوگی۔

 بلاول ہاﺅس میڈیا سیل میں صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ اور دیگرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نثار کھوڑونے کہاکہ چشمہ میں غیر قانونی طور پر ایک ہزار کیوسک اور ٹی پی لنک کینال میں500کیوسک پانی بہایا جا رہا ہے ،ارسا پانی کی چوری بند کروائے اور چشمہ جہلم ٹی پی لنک کینال بند کروائے،ہم پانی کی شفاف تقسیم چاہتے ہیں،سندھ کے ساتھ پانی پر زیادتی کرکے سندھ کی زراعت تباہ کرکے ملک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، کوٹری سے نیچے5 ہزار کیوسک پانی یومیہ بہایا جانا چاہئے۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ ارسا کے چیئرمین کو تبدیل کرکے سندھ سے ارسا چیئرمین مقرر کیا جائے جوکہ سندھ کے ٹیل کو تحفظ دے سکے،15جون تک سندھ کا پانی بحال کیا جائے ورنہ ذمہ دار وفاقی حکومت اور ارسا پرہوگی،ارسا میں تین صوبوں کے اراکین کی مخالفت کے باجود ایک لاکھ 8ہزار کیوسک تونسہ اور پنجند سے پانی بہایا جا رہا ہے جبکہ گڈو میں صرف 70 ہزار کیوسک پانی چک رہا ہے،40 ہزار کیوسک پانی کی کمی کاسامناہے ،سکردو سے ایک لاکھ 40 ہزار کیوسک چل رہا ہے اور تربیلا سے 90 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے ۔

نثارکھوڑو نے کہاکہ سندھ میں پانی کا شدید بحران ہے جس پر 3 جون سے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، کسی کو احتجاج کرنےسےنہیں روکا ،پولیس صرف امن امان کے قیام اور ہنگامہ آرائی روکنےکےلئےکھڑی کی گئی تھی،پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نےکسی کو دھرنادینےسےنہیں روکا مگرکسی کےبزنس روکنےکے خلاف ہیں،کاروبار یا بزنس کرنا سب کا حق ہے ،کسی کو بزنس کرنے سے نہیں روکاجا سکتا مگر توڑ پھوڑ ہنگامہ آرائی املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے لے کر حیدرآباد تک متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیز تعمیر ہو رہی ہیں مگر غیر قانونی قبضوں کے خلاف ہیں،ہاؤسنگ سوسائٹیز منصوبوں میں نان ٹیکنکل سٹاف علاقے کے مقامی لوگوں سے ہونا چاہئے ،سندھ میں ہاؤسنگ انڈسٹری میں سندھ کے ڈومیسائل رکھنے والے لوگوں کو کام پر رکھا جائے۔

 نثارکھوڑونے کہاکہ سندھ میں وفاق کی مدد سے ڈرینج ، کے فور سمیت 10منصوبے بنا رہے تھے مگر وفاق نے سندھ کے وہ منصوبے کاٹ دیئے ہیں،سکھر روڈ بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوگا جس میں وفاق کے ایک ٹکہ تک نہیں ہے،سہون سے جامشورو تک ڈیوئل کیریج وے روڈ کی تعمیر کے لئے سندھ حکومت نے سات  ارب روپے سے کام شروع کیا مگر وفاقی حکومت نے سندھ کو ایک رپیہ تک نہیں دیا ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -