تُرکی میں طلبہ و طالبات کے لئے دودھ اور شہد کی تقسیم کا پراجیکٹ

تُرکی میں طلبہ و طالبات کے لئے دودھ اور شہد کی تقسیم کا پراجیکٹ
تُرکی میں طلبہ و طالبات کے لئے دودھ اور شہد کی تقسیم کا پراجیکٹ

  

تُرکی کے سکولوں میں حکومت فری دودھ تو طلبہ و طالبات کے لئے فراہم کر رہی تھی اور یہ پراجیکٹ کافی عرصے سے محکمہءتعلیم، محکمہ خوراک و زراعت اور محکمہ صحت کے اشتراک سے کامیابی سے چل بھی رہا تھا۔ اب یہ خبریں آ رہی ہیں کہ تُرکی کی حکومت 15 مارچ سے طلبہ و طالبات میں شہد کی مفت تقسیم کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد تُرکی کے مستقبل کے نوجوان معماروں کو صحت مند، توانا، طاقتور اور ذہین بنانا ہے اور بچوں میں دودھ اور شہد پینے اور کھانے کی عادت ڈالنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سکولوں میں طلبہ و طالبات کے لئے شہد کی فری تقسیم کے منصوبے کا آغاز تُرکی کے شہر اُردو سے کیا جا رہا۔ اس پراجیکٹ کے شروع میں 10 ہزار بچوں میں شہد کی تقسیم کی جائے گی۔ یہ منصوبہ تُرکی میں ان بے شمار منصوبوں میں سے ایک ہوگا، جس کا مقصد ترو تازہ و توانا نسل کی نشوونما کے ساتھ ساتھ بچوں میں متوازن اور صحت کے لئے مفید غذا کے استعمال کی ترغیب دینا ہے اور تعلیم کے لئے کوشاں طلبہ و طالبات کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فراہمی ہے تاکہ وہ مستقبل میں مفید شہری ثابت ہو سکیں۔ اگرچہ سکولوں میں شہد کی فری تقسیم کا فیصلہ کئی سال پہلے ترکی میں کیا جا چکا تھا، تاہم مختلف محکموں اور شعبوں میں اشتراک پر بات چیت چل رہی تھی اب آکر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 15 مارچ کو اس منصوبے کا آغاز ہو جائے گا۔ اس منصوبے میں تُرکی میں پرائیویٹ سیکٹر میں دودھ اور شہد کی تقسیم کرنے اور بنانے والے تمام اداروں کی معاونت حاصل ہوگی۔ اس پراجیکٹ پر ملین ڈالرز خرچ آئیں گے جو مختلف حکومتی محکمے، نجی ادارے اور تنظیمیں برداشت کریں گی۔

اس سے پہلے سکول کے بچوں میں منی کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ تُرکی میں 12 ویں جماعت تک تعلیم مفت ہے، جس کا اہتمام حکومت کرتی ہے۔ کتب، یونیفارم اور دیگر لوازمات فری ہیں۔ ہر خاندان پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے، سکول نہ بھیجنے والے لوگوں پر جرمانہ کیا جاتا ہے اور انہیں تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ ترکی میں معیشت بہتر ہے۔ لوگوں کے مالی حالات بہتر ہیں، لہٰذا ہر کوئی اپنے بچوں کو سکول بھیجتا ہے۔ جہاں تک حکومتی سکولوں میں سہولتوں کا تعلق ہے تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے زیادہ جدید سہولتیں حکومتی تعلیمی اداروں میں ہیں۔ آپ کو نجی اور حکومتی سکولوں میں بہت کم فرق محسوس ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت تعلیم اور صحت کے شعبے کو بہت اہمیت دیتی ہے اور بجٹ کا زیادہ تر حصہ تعلیم اور صحت پر ہی خرچ ہوتا ہے۔ اساتذہ کی تنخواہیں اور مراعات پُرکشش ہیں۔ وہاں پر پرائمری سکول ٹیچر کی تنخواہ کم از کم ایک ہزار ڈالر ہے۔ اساتذہ کے لئے علیحدہ خصوصی پاسپورٹ اور سفری سہولتوں کے لئے کارڈ ہوتا ہے، وہاں اساتذہ کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

بچوں میں دودھ تو پہلے ہی تقسیم کیا جا رہا تھا اور یہ منصوبہ بڑی کامیابی سے پورے ترکی میں چل رہا تھا۔ اب شہد کی تقسیم کا پراجیکٹ ایک اہم اقدام ہے، جس سے بچے اور والدین بہت خوش ہیں۔ آہستہ آہستہ شہد کی فری تقسیم کا عمل پورے تُرکی میں شروع ہو جائے گا۔ تُرکی کے سکولوں میں کیبنٹ سسٹم ہوتا ہے۔ بچے بھاری بھر کم بستے اور بیگ اپنے کمزور اور ناتواں کندھوں پر صبح صبح نہیں اُٹھاتے اور نہ زیادہ کتب ہوتی ہیں۔ صبح صبح کلاس میں آئے، اپنی کیبن کھولی۔ وہیں پڑھا، وہیں کام کیا۔ کوئی ہوم ورک یا لکھائی کا کام نہیں ہوتا۔ چھٹی کے وقت صرف ضروری کتاب ساتھ لی اور گھر چلے آئے۔ استاد بھی نوٹ خود تیار کرواتا ہے۔ لمبا لمبا لکھنے، یاد کرنے یا بھاری بھر کم ہوم ورک نہیں دیتا۔ سلیبس انتائی مناسب اور جدید ہے۔ وہ قومی اور اخلاقی قدروں پر مبنی ہوتا ہے۔

پرنسپل کا انتخاب والدین کی کونسل کرتی ہے۔ اساتذہ کا تقرر ایک مشکل مرحلے سے گزر کر میرٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ ترکی میں استاد بننا اتنا ہی مشکل ہے، جتنا پاکستان میں کسی غریب کا سی ایس ایس پاس کرنا اور کامیاب ہونا۔ آپ کو کم از کم پرائمری سکول میں پڑھانے کے لئے اگر گریجوایشن تعلیم کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن اور ٹیچنگ کا کورس بھی کرنا پڑتا ہے۔ تب جا کر آپ اساتذہ کے لئے اعلان کردہ امتحان میں بیٹھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اللہ کرے وہ دن بھی وطنِ عزیز پاکستان میں آئے، جب ہم بھی اپنے سکولوں میں دودھ اور شہد تقسیم کریں۔ ہمارے سکول بھی جدید سہولتوں سے آراستہ ہوں، سلیبس جدید ہو، اساتذہ کا تقرر میرٹ اور اہلیت پر ہو اور معاشرے میں اساتذہ کو عزت و احترام حاصل ہو۔ انہیں سہولتیں میسر ہوں اور سکولوں میں حاضری سو فیصد ہو، آمین!   ٭

مزید :

کالم -