مذاکرات ناکام بنانے کے لئے ”بیرونی ہاتھ“ سرگرم

مذاکرات ناکام بنانے کے لئے ”بیرونی ہاتھ“ سرگرم

  



تحریک طالبان کی طرف سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اس مرتبہ حکومت طالبان مذاکرات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے لیکن ایک بار پھر وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیاجارہاتھا۔ بھارت، امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں جن کی مداخلت پاکستان میں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ وہ ایک بار پھر امن و امان کی فضا کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ماضی میں جب کبھی بے پناہ کوششوں کے بعد مذاکرات کا ماحول پید اہوتا رہا ڈرون حملے کر کے اس سلسلہ کو ختم کر دیا گیا مگر اب کی بار حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے مابین ملاقاتوں کے بعد مذاکرات کے حوالہ سے صورتحال قدرے بہتر نظر آرہی تھی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے امریکہ کو بھی باور کروایا گیا تھا کہ وہ ڈرون حملوں سے باز رہے اور مذاکرات کامیاب ہونے دے لیکن اسلام آبادمیں دہشت گردی کر کے نئے طریقہ سے کھیل کھیلا گیا ہے۔ اسلام آباد کی ایف ایٹ کچہری میں پیش آنے والے حالیہ واقعہ سے یہ بات کھل کر واضح ہو گئی ہے کہ اب تک ملک میں جتنے بم دھماکے، خودکش حملے اور اس نوع کی دیگر وارداتیں ہوتی رہی ہیں‘ ان کے پیچھے محض طالبان ہی نہیں تھے بلکہ بھارت و امریکہ بھی پوری طرح اس میں ملوث ہیں جو کسی صورت پاکستان میں امن و امان بحال ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔

اسلام آباد ایف ایٹ کچہری میں ہونے والے خود کش حملہ میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت خان اعوان اور 4 وکلا سمیت گیارہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایک دہشت گرد نے ایڈیشنل سیشن جج سکندر خان کی عدالت کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ دوسرے مسلح حملہ آوروں نے ایڈیشنل سیشن جج رفاقت خان اعوان کو ان کے چیمبر میں فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ضلع کچہری میں حملہ آوروں کی اندھا دھند فائرنگ اور دستی بم حملوں سے وکلائ، عدالتی عملہ اور سائلین بھی زد میں آنے سے لہولہان ہوتے رہے۔حملہ میں زخمی ہونے والے37 افراد پمز پہنچائے گئے جن میںسے چھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ ضلع کچہری میں دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد ہو کا عالم طاری ہوگیا، پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ رینجرز کے دستے بھی ضلع کچہری پہنچ گئے ایف ایٹ مرکز مکمل طور بند ہوگیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ مکمل طور پر سیل کردی اور بم ڈسپوزل سکواڈ اور پولیس کی ٹیموں نے دھماکہ خیز مواد، انسانی اعضائ، گولیوں کے خول قبضے میں لے لئے‘ خودکش حملہ آوروں کے اعضاءیکجا کئے جنہیں ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے روانہ کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دو حملہ آور جنہوں نے چادریںاوڑھ رکھی تھیں تھانہ مارگلہ کے عقب میں وکلاءچیمبرز کے طرف سے ضلع کچہری میں داخل ہوئے۔ حملہ آوروں کے پاس کلاشنکوفیں اور دستی بم بھی تھے۔ حملہ آوروں نے کچہری میں داخل ہوتے ہی فائرنگ شروع کردی اور ہینڈ گرنیڈ پھینکتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے۔ فائرنگ اور دستی بم دھماکوں کے دوران ہی اچانک دونوں خود کش حملہ آوروں نے خود کو بھی دھماکے سے اڑا لیا۔ ایک خود کش حملہ آور نے ہارون الرشید ایڈووکیٹ کے چیمبر کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا جبکہ دوسرے حملہ آور نے ایڈیشنل سیشن جج سکندر خان کی عدالت کے برآمدے میں خود کو دھماکے سے اڑایا جس سے ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان جمالی اور ایڈیشنل سیشن جج رفاقت خان اعوان کی عدالتوں کے کمرے بری طرح متاثر ہوئے، ضلع کچہری میں انسانی خون اور دھماکہ خیز مواد کی بو دور دور تک محسوس کی گئی۔ چیف جسٹس نے اسلام آباد کچہری واقعہ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی، چیف کمشنر اسلام آباد اور سیکرٹری داخلہ کو رپورٹ سمیت طلب کر لیاہے اور 3 رکنی بنچ چیف جسٹس کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کریگا۔ چیف جسٹس نے آئی جی پولیس کو ضلع کچہری اسلام آباد میں سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی فہرست بھی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ آیا تمام پولیس اہلکار وقوعہ کے وقت ڈیوٹی پر موجود تھے اور اس طرح کے واقعہ پر قابو پانے کے لئے کیا متبادل سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ صدرپاکستان، وزیراعظم، وزیراعلیٰ شہباز شریف،امیر جماعةالدعو ة حافظ محمد سعید،سید منور حسن، چودھری شجاعت اور دیگر نے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ادھر کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ اسلام آباد واقعے سے تحریک طالبان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ساتھی اس میں ملوث ہے، جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں موجود اپنے تمام ساتھیوں کو جنگ بندی کی مدت کے دوران ہر قسم کی عسکری کارروائیاں روکنے کا حکم جاری کیا جا چکا ہے۔ اگر ان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے دوران کوئی بھی تشدد کا واقعہ رونما ہوگا تو ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی ایجنسیاں بھی ہیں جو مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے دیکھنا چاہتیں اور مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ دہشت گردی میں تحریک طالبان سے باہر کے گروپ بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔

اسلام آباد کچہری پر حملہ کے بعد پورے ملک میں وکلاءکی جانب سے عدالتوں کا بائیکاٹ کیاجارہا ہے۔ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار اور ہائیکورٹ بار نے ایک ہفتے کیلئے ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ وکلاءایک ہفتے تک عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔اسلام آباد واقع کے بعد اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے اسلام آباد کچہری میں دہشت گردی کے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اگر طالبان کے کسی گروپ کی جانب سے سکیورٹی فورسز یا معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو سخت ترین جوابی کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں تحریک طالبان کی جانب سے غیرمشروط جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا اور اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ تحریک طالبان جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ سیاسی و عسکری قیادت نے ملک میں امن و امان کے قیام، سرکاری تنصیبات کی حفاظت اور سرکاری افسروں کی حفاظت کے لئے مزید موثر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔حملہ کے بعد وزیراعظم نوازشریف سے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ”ون آن ون“ ملاقات کی اور سکیورٹی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔ بعدازاں وزیراعظم محمد نواز شریف کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے طالبان سے رابطوں اور اسلام آباد کے سانحہ کے بارے میں بریفنگ دی، اجلاس میں حکومت کی جانب سے طالبان کے خلاف فضائی حملے روکنے کے فیصلہ کی توثیق کی گئی۔ اجلاس میں اسلام آباد کے واقعہ کے بارے میں سکیورٹی اداروں نے ابتدائی رپورٹ پیش کی۔ وزیراعظم نے مکمل تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔قومی اسمبلی میں بھی اس افسوسناک واقعہ پر بحث کی گئی اور اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ حملوں سے صرف اعلان لاتعلقی کافی نہیں ہے‘ طالبا ن سے اس سلسلہ میں باز پرس کی جانی چاہیے۔اسلام آباد کچہری پر حملہ کے بعد معاملات انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر چکے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے وطن عزیز پاکستان سے بیرونی قوتوں کی مداخلت ختم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جماعةالدعوة نے پورے ملک میں ان دنوں نظر یہ پاکستان کے تحفظ کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ 23مارچ کولاہور میں مینار پاکستان سے مسجد شہداءمال روڈ تک اور اسی طرح شہر شہر جلسوں، کانفرنسوں اورنظریہ پاکستان مارچ کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس مہم کے اغراض و مقاصد میں یہ بات بھی رکھی گئی ہے کہ پاکستان جس نظریہ پر بنایا گیا تھا اسی نظریہ پر عمل کرنے سے ہی اس کی حفاظت ممکن ہے۔ اس لئے پورے ملک میں بھرپور تحریک چلا کر لوگوں کو بیرونی سازشوں سے آگاہ اور انہیں متحد و بیدار کیا جائے۔ جماعةالدعوة کی یہ مہم قابل تحسین ہے۔ اب تک پاکستان کو بم دھماکوں، خودکش حملوں اور تخریب کاری و دہشت گردی کی صورت میں جو کچھ بھگتنا پڑ رہا ہے وہ بھارت و امریکہ سے دوستیاں نبھانے کا نتیجہ ہے۔جب تک ہم ان خرافات سے جان نہیں چھڑائیں گے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔

مزید : کالم