کتنی فیصد خواتین کا حمل کیوں ضائع ہو جاتا ہے ؟ تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

کتنی فیصد خواتین کا حمل کیوں ضائع ہو جاتا ہے ؟ تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
کتنی فیصد خواتین کا حمل کیوں ضائع ہو جاتا ہے ؟ تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

  


برمنگھم (نیوز ڈیسک) حمل کی قدرتی مدت تقریباً 9 ماہ ہوتی ہے مگر بعض اوقات بعض مسائل کی وجہ سے اس کا اختتام پہلے 5 ماہ کے دوران ہی ہو جاتا ہے جسے حمل ضائع ہونے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ ماہرین زچہ و بچہ کی تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ اس مسئلے کی شرح عام پائے جانے والے اندازوں کی نسبت زیادہ ہے اور تقریباً 10 سے 25 فیصد حمل ضائع ہو جاتے ہیں۔ خواتین میں عمر بڑھنے کے ساتھ حمل ضائع ہونے کے امکانات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔

35 سال سے کم عمر خواتین میں حمل ضائع ہونے کا امکان 15 فیصد ہوتا ہے، جبکہ 35 سے 45 سال عمر کی خواتین میں اس کا امکان بڑھ کر 20 سے 35 فیصد ہو جاتا ہے۔ 45 سال سے زائد عمر کی خواتین میں عمل کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے اور اگر حمل ٹھہر بھی جائے تو اس کے ضائع ہونے کا امکان تقریباً 50 فیصد ہوتا ہے۔ جن خواتین میں ایک بار حمل ضائع ہو چکا ہو ان میں دوبارہ ایسا ہونے کا امکان دیگر خواتین کی نسبت قدرے زیادہ ہوتا ہے مگر یہ فرق معمولی ہے۔

محبوبہ کی تلاش میں جگہ جگہ اشتہار لگانے والے آدمی کی زندگی میں ایسی بہار آئی کہ۔۔۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران کمر میں شدید درد، وزن میں غیر معمولی کمی، براﺅن یا چمکدار سرخ خون آنا، سفیدی مائل گلابی مادے کا اخراج، لوتھڑا نما مادے کا اخراج یا حمل کے آثار میں اچانک کمی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ حمل ضائع ہو سکتا ہے۔ حمل کو محفوظ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ ہلکی پھلکی ورزش کریں، صحت بخش خوراک کھائیں، ذہنی دباﺅ سے بچیں، موٹاپے سے بچیں، تمباکو نوشی سے دور رہیں، پیٹ پر دباﺅ نہ پڑنے دیں، ادویات ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔ چائے اور کافی کا استعمال محدود رکھیں۔ ایکس رے اور دیگر شعاعوں سے بچیں اور مشقت طلب کاموں اور بھاری وزن اٹھانے سے پرہیز کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس