جس نے حکمت کے فن کو زندہ رکھا وہ خود بھی زندہ ہے

جس نے حکمت کے فن کو زندہ رکھا وہ خود بھی زندہ ہے

  

 1984ء کے اوائل میں میرے بڑے بھائی عبدالغفار کے پیٹ میں درد کا آغاز ہوا۔ کبھی حکیم کی دوائی،کبھی ڈاکٹر کی، مگر درد بدستور رہا، ڈاکٹر نے مکسچر پلانا شروع کر دیا۔ اسی طرح چھ ماہ گزر گئے۔ تقریباً جون کا وسط آیا تو ایک دن بھائی صاحب مسجد میں مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے کہ متلی محسوس کی۔ وضو خانے میں گئے تو قے ہوئی، جو رنگت میں سرخ تھی۔ ان کو یہ گمان گزرا کہ دن میں کئی بار لال دوا پی ہے، وہ قے میں نکلی ہے، طبیعت نڈھال ہو گئی۔ واپس آ کر دکان پر لیٹ گئے۔ اتفاق سے ان کا ایک بیٹا دکان پر پہنچ گیا۔ اس نے ابو کو اس طرح نڈھال حالت میں لیٹا ہوا دیکھا تو وہ انہیں اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ مَیں جب اپنی دکان سے فارغ ہو کر نکلا تو بغیر کسی پیشگی پروگرام کے اس فیملی ڈاکٹر کے کلینک جا پہنچا۔ ڈاکٹر نے بھائی صاحب کو بیڈ پر لٹایا ہوا تھا۔ مَیں نے فکر مندی کے عالم میں پوچھا کیا بات ہے۔کیسی طبیعت ہے؟اتنے میں بھائی صاحب نے قے کی جو خون ہی خون تھا۔ مَیں نے نہایت پریشانی کے عالم میں ڈاکٹر سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب کیا ہوا ہے؟ یہ سب کچھ کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا انہیں فوراً ہسپتال لے جائیں۔ مَیں اور میرا بھتیجا اُن کو لے کر ہسپتال کی جانب دوڑے، ایمرجنسی میں علاج شروع ہوا۔ ڈاکٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ معدے میں کوئی السر ہے جو پھٹ گیا ہے۔ ہم نے مریض کو ہسپتال میں داخل کرایا اور سپیشلسٹ کو کال کیا۔ ایک پروفیسر ڈاکٹر آئے۔ مکمل معائنے کے بعد یہی بتایا گیا کہ معدے میں السر پھٹا ہے۔ علاج شروع ہو گیا۔ اگلے روز پروفیسر ڈاکٹر نے اپنے پرائیویٹ کلینک پر ان کی اینڈو سکوپی کی اور اپنی تشخیص پر ہی زور دیا۔ بھائی صاحب ہسپتال میں تھے۔ سپیشلسٹ ڈاکٹر نے انہیں گھر لے جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ مَیں وقتاً فوقتاً چیک کرتا رہوں گا اور اینڈو سکوپی کی بنیاد پر علاج جاری رکھوں گا، السر ٹھیک ہو جائے گا، انشا اللہ۔ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک روز مجھے بھی اینڈو سکوپی کے دوران دکھایا کہ دیکھو معدے میں السر بھی نظر آ رہا ہے اور خون بھی رس رہا ہے۔ مَیں ان کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔علاج ہوتا رہا، مگر طبیعت بگڑتی چلی گئی۔ایک روز محترم حکیم محمد سعید صاحب لاہور مطب کے لئے تشریف لائے۔میری ان سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی کہ وہ کراچی کی تیاری فرما رہے تھے۔ ہم تھوڑی دیر بیٹھے۔ بھائی صاحب کا سارا کیس مَیں نے گوش گزار کیا، فرمانے لگے، گھر جا کر مریض کو دیکھنے کا و وقت نہیں ہے جو کچھ سُنا ہے، اس کا جواب کراچی جا کر دوں گا۔بھائی صاحب کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ انہیں لندن بھیج دیا جائے۔ چند روز میں جانے کے انتظامات مکمل کئے اور وہ عازمِ لندن ہو گئے۔ لندن میں کرومویل ہسپتال میں چیک اپ کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس عرصے میں طے ہوا کہ ٹیسٹ رپورٹیں آنے پر سرجن پروفیسر ڈاکٹر ایلس کو کنسلٹ کرنا ہے۔ ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو انہوں نے8اگست کا ٹائم دیا۔ لندن سے بھائی صاحب نے مجھے فون پر ساری تفصیل بتائی اور کہا کہ تم اگست کے پہلے ہفتے میں لندن پہنچ جاؤ تاکہ ڈاکٹر ایلس سے تفصیلی بات ہو سکے۔ یہ فیصلہ سُن کر اب مَیں نے اپنی تیاری شروع کی۔6اگست کی میری بکنگ بھی ہو گئی۔ اب جبکہ بھائی صاحب لندن میں ہیں۔ مَیں جانے کے لئے رختِ سفر باندھ رہا ہوں۔ محترم حکیم صاحب کا مکتوب موصول ہوا۔ اول تو مَیں اس بات پر حیران تھا کہ محترم نے میرا کیس اور کراچی جا کر جواب دینے کا وعدہ یاد رکھا۔ خط آ گیا۔ تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کے بھائی صاحب کا معدہ صاف ہے، ان کے جگر میں ٹیومر ہے۔ اس کی وجہ سے فوڈ پائپ میں جا بجا Blood Socks بنے ہوئے ہیں۔ جب وہ پھٹتے ہیں تو بلیڈنگ ہوتی ہے۔ اس کا ہمارے پاس علاج یہ ہے کہ فلاں فلاں دوا دن میں دیں۔ رات کو پانچ آلو بخارے بھگو کر رکھ دیں۔ ان کو اچھی طرح مسل کر آلو بخاروں کا یہ پانی پابندی سے پلائیں، انشا اللہ شفا ہو گی۔خط تو مَیں نے پڑھ لیا۔ حکیم صاحب کی اعلیٰ ظرفی کا معترف بھی ہوا، مگر مریض تو لندن میں ہے۔ بہرحال مَیں6اگست کو لندن پہنچ گیا۔ لندن میں کرامویل سے وقتی طور پر انہیں جو بھی ادویات دی جا رہی تھیں، اس سے طبیعت میں کچھ قرار تھا۔ 8تاریخ کو اپوائنٹ منٹ کے وقت پر ہم ڈاکٹر ایلس کے کلینک پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے مریض کو دیکھا، ان کی زبانی ساری تفصیل معلوم کی۔ کرامویل کی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا، پھر ایک بڑا پیپر لے کر اس پر ڈایا گرام بنانا شروع کی، یہ معدہ ہے، یہ جگر ہے، یہ فوڈ پائپ ہے۔ جگر میں اس جگہ ٹیومر ہے۔اس کی وجہ سے فوڈ پائپ میں Blood Socks بنتے ہیں۔ ان کے پھٹنے سے بلیڈنگ ہوتی ہے، اسی کو آپ خون کی اُلٹی کہتے ہیں۔ اب ہمیں اس ٹیومر کا علاج کرنا ہے جو اصل مرض ہے۔درد بھی اِسی وجہ سے ہوتا ہے اور اِسی وجہ سے اُلٹیہوتی ہے۔ اس تفصیل پر مَیں حیران تھا کہ یہ سب کچھ تو لکھا ہوا میری جیب میں موجود ہے۔ مَیں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ پاکستان میں ایک حکیم صاحب نے مریض کو دیکھے بغیر یہی تشخیص کی ہے۔ ڈاکٹر نے بھی حیرانی کا اظہار کیا۔اگلا سوال ڈاکٹر سے تھا کہ اب کرنا کیا ہے؟ ڈاکٹر نے ایک لیٹر دیا کہ Guys Hospital جا کر ان کو داخل کرائیں، کل مَیں وزٹ کر کے اپنے اگلے قدم کا فیصلہ کروں گا۔ ہم بھائی صاحب کو لے کر ہسپتال پہنچ گئے۔ 9اگست 1984ء کو ہسپتال کے کمرہ نمبر9 میں داخلہ ملا۔ ہسپتال کے باہر سنِ تعمیر جو اب بھی مجھے یاد ہے۔ 1769ء تختی پر کنندہ تھا، یعنی جب ہندوستان پر مغلوں کی حکومت تھی۔ اس زمانے میں جو انگریز ڈاکٹر مغلوں کے علاج معالجے کے لئے لندن سے آتے رہے، وہ یقیناًاسی ہسپتال سے آتے ہوں گے۔ 10اگست کو لندن کے سینئر سرجن پروفیسر ڈاکٹر ایلس نے مریض کو وزٹ کیا اور 12تاریخ کو جگر کے آپریشن کا وقت طے کیا۔ وقتِ مقررہ پر بھائی صاحب کو ہسپتال کی نئی بلڈنگ میں کوئن الزبتھ بلاک میں سرجری کے عمل سے گزارا گیا۔ تین چار گھنٹے کے بعد سرجن نے آ کر بتایا کہ کامیاب آپریشن ہو گیا۔21اگست کو ڈاکٹر نے لیکوڈ ڈائٹ دی جو یرقان کا سبب بنی۔ یرقان کی زیادتی مریض کی بے ہوشی کا باعث۔ اس حالت میں ڈاکٹر نے مریض کو فوراً پاکستان لے جانے کا مشورہ دیا۔ پر مریض تو بیہوش ہے، اس نے کہا جہاز میں سٹریچر لگوا کر لے جائیں۔ مریض کے ساتھ نرس کا ہونا بھی ضروری تھا۔ یہ سارے انتظامات مکمل کر کے24 اگست کو لندن سے واپسی کا سفر شروع کیا۔ ڈاکٹر نے جس طرح ہمیں پاکستان دوڑایا، اس کا سبب یہ لگتا ہے کہ مریض کی موت ہو گئی تو کہیں اس کے لواحقین مقدمہ نہ کر دیں۔ بہرحال ہم تو بیہوش مریض کو لے کر پرواز کر گئے۔جہاز نے کراچی لینڈ کیا، نرس بڑی ذمہ داری سے مریض کی دیکھ بھال کرتی رہی۔ کراچی پہنچ کر معلوم ہوا کہ ابھی جہاز لاہور نہیں جا سکتا،کیونکہ لاہور ایئر پورٹ پر ہندوستان کا جہاز اغوا ہو کر آیا ہوا ہے۔ جب تک ایئر پورٹ کلیئر نہیں ہو گا، فلائٹ لاہور نہیں جائے گی۔ 24تاریخ کی شام کو ہم لاہور آ گئے۔ ایئر پورٹ سے مریض کو عمر ہسپتال شفٹ کیا۔اگلے روز بھائی صاحب خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ سن1965ء کی جنگ میں لاہور کے جی اوسی میجر جنرل سرفراز تھے، ان کے بیٹے کا1985-86ء میں ولیمہ تھا۔ مَیں بھی اس ولیمے پر مدعو تھا۔ اس تقریب میں مَیں نے جتنے جنرلوں کو ایک ساتھ دیکھا، کبھی نہیں دیکھا۔ تمام ریٹائرڈ اور تمام حاضر سروس۔ سارے جنر ل ولیمے کی اِس تقریب میں موجود تھے۔سرفہرست صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق تھے۔ مہمانوں کی کثیر تعداد تھی۔ ان میں محترم حکیم محمد سعید بھی نظر آئے۔ بڑے ادب سے مَیں ان کو ملا، ساتھ جگہ بنائی اور ان کو مرحوم بھائی کا سارا قصہ سنایا۔ خاص طور پر یہ کہ مریض کو دیکھے بغیر آپ نے جو تشخیص کی تھی، لندن میں بڑے مہنگے ٹیسٹ کرا کے بھی مرض وہی نکلا، مگر مریض جانبر نہ ہو سکا۔ موت کا وقت مقرر ہے، جو ہوا دراصل مقررہ وقت ان تمام مراحل سے گزر کر ہی آنا تھا۔ محترم حکیم محمد سعید نے بڑے افسوس کا اظہار فرمایا اور کہا کہ لندن کی سب رپورٹیں مجھے دے دیں۔حسب خواہش مَیں نے لندن کی پوری فائل ان کے ریکارڈ کے لئے اس عالی مرتبت شخصیت کے حوالے کر دی۔ یہ میری محترم حکیم محمد سعید صاحب سے بھائی صاحب کے حوالے سے آخری ملاقات تھی۔لاہور میں انار کلی میں ہمدرد دواخانہ میں کبھی حکیم صاحب کو نبض دکھانے کا موقع ملتا تھا۔ 1964ء میں مَیں چین گیا تو چین سے ہانگ کانگ بورڈنگ جانے والی ٹرین میں ہم دونوں ہم سفر رہے۔ ہانگ کانگ میں سلطان نیکی کی دکان پر ہماری ملاقات ہوتی رہی۔ لاہور میں جہاں جہاں مطب منتقل ہوتا رہا، ملاقات ہوتی رہی۔ جب حکیم محمد سعید سندھ کے گورنر مقرر ہوئے تو مَیں نے کراچی رابطہ کر کے لاہور میں ملنے کا وقت لیا۔ فرمایا مقررہ دن مزنگ فین روڈ کے مطب میں بعد نمازِ فجر آ جائیں۔اس بار ان کی کار پر گورنر سندھ کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ ہمدرد نے انار کلی،مزنگ اور فین روڈ کے بعد لٹن روڈ پر اپنا مرکز تعمیر کیا۔ مجھے بھی افتتاحی تقریب کا دعوت نامہ ملا کہ1998ء جون کی3تاریخ کو لٹن روڈ پر ہمدرد مرکز کا افتتاح ہے۔ مَیں اس تقریب میں گیا، مہمان خصوصی پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف تھے۔روایتی طریقے پر تقریب منعقد ہوئی، تقاریر ہوئیں اور بالآخر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ سٹیج پر مکرم و محترم حکیم محمد سعید سفید لباس میں ملبوس مہمان خصوصی کے ساتھ بڑے پُروقار انداز میں بیٹھے مجھے اب بھی نظر آتے ہیں۔مہربان و مہمان باوقار تھے۔ تقریب باوقار تھی، ماحول باوقار تھا، اُس دن کی یادیں ہمیشہ تازہ رہیں گی۔ تقریبات میں تواضع کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ شرکاء چائے پانی کی طرف چلے گئے۔ وزیراعلیٰ کو حکیم سعید صاحب محترم رخصت کرنے کے لئے نیچے لے جانے لگے تو مَیں بھی ساتھ ہو لیا، آج کل کی طرح سیکیورٹی، ہٹو بچو والا مسئلہ نہیں تھا۔ ہمدرد مرکز کے مین گیٹ کے چبوترے پر میزبان نے مہمان سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا۔ میاں صاحب گاڑی میں جا بیٹھے،محترم حکیم صاحب اللہ حافظ کہہ کر جونہی مڑے، مَیں نے ان کو مخاطب کیا۔ بڑی محبت اور شفقت سے مجھے گلے لگایا۔ دراصل یہ میری اُن کی آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد انہوں نے جنت الفردوس کا سفر اختیار فرمایا۔ یہ سطور رقم کرنے کا مقصد آپ کو یہ بتانا مقصودہے کہ میڈیکل کی کسی دور کی کسی کتاب میں ایسا واقعہ یا ایسی تشخیص کا ذکر نہیں ملے گا،جو مَیں نے بیان کر دیا۔ حافظ حاجی حکیم محمد سعید ؒ جنہوں نے ہمیشہ شرافت کا سفید لباس زیب تن کیا۔ ان کی شہادت نے ان کی قبر پر ایسا جھنڈا لہرایا، جس پر لکھا ہے حکیم سعید زندہ ہے، حکیم سعید زندہ ہے۔

مزید :

کالم -