خان صاحب اور تحلیل اسمبلی پر شہری تبصرہ!

خان صاحب اور تحلیل اسمبلی پر شہری تبصرہ!
 خان صاحب اور تحلیل اسمبلی پر شہری تبصرہ!

  


 یہ لاہوریئے بڑے ستم ظریف ہیں۔ان کے پاس ایسی ایسی مثالیں اور قصے ہوتے ہیں کہ توبہ کرنا پڑتی ہے، خصوصاً ہمارے پرانے شہر کے باسی اپنے آبائی محلے میں ہوں یا وہاں سے کسی نئی آباد کالونی میں چلے گئے ہیں ان کی محافل میں وہی رنگ ہوتا ہے۔شہر میں تو ’’تھڑہ پالیٹیکس‘‘ ہوتی تھی جو اب بڑی حد تک ماند پڑ گئی ہے کہ تھڑے کم پڑ گئے ہیں اور کچھ لوگ نقل مکانی بھی کر چکے ہیں اس کے باوجود کہیں کہیں اب بھی شام کے بعد جب تھوک مارکیٹیں بند ہو جاتی ہیں تو بزرگ ضرور جمع ہوتے ہیں۔ حقے کی جگہ سگریٹ کے کش لگتے اور پھر خبروں پر تبصرہ ہوتا ہے۔ ان میں سے جو حضرات نئے علاقوں میں منتقل ہوئے وہاں انہوں نے پارکوں میںیہ سلسلہ شروع کر لیا ہے، خصوصاً سیر صبح اور ورزش کرنے والوں کی جماعتیں بن گئی ہیں، ان کے درمیان بڑی شدید بحث ہوتی ہے تو ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں حاضر سیاست اور سیاسی رہنماؤں کے بارے میں بھی اظہارِ خیال ہوتا ہے۔ گزشتہ روز ایسی ہی ایک محفل میں ہونے والی گفتگو کو نقل کرنے سے ہمارا قلم کانپ رہا اور دل دھڑکتا ہے کہ ایک بہترین تنقید کو جس مثال کیساتھ جوڑ کر سنایا گیا وہ کہیں قابل تعزیر ہی نہ ہو کہ آج کل ہمارے سیاسی بھائیوں کو سچی تنقید بھی پسند نہیں اور وہ ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ کر دیتے ہیں، جن صاحبان کو استحقاق حاصل ہے وہ اپنا یہ حق اسمبلی میں استعمال کرتے ہیں۔ جیسے گزشتہ روز (4مارچ) پنجاب اسمبلی میں ایک تحریک استحقاق پیش کی گئی ہے، جو ایک سینئر صحافی اور ٹیلی ویژن کے خلاف ہے۔جنوبی پنجاب کے ایک فاضل رکن نے تحریک پیش کی ہے کہ ایک ٹی وی پروگرام میں اس صحافی نے سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ کی جو گفتگو کی۔ اس میں احتیاط کو بالائے طاق رکھ دیا اور اراکین صوبائی اسمبلی (خصوصاً جنوبی پنجاب والوں) کو بکاؤ مال قرار دے دیا ہے ان صحافی محترم کا تعلق بھی اِسی علاقے سے ہے، وہ لیہ سے اسلام آباد منتقل ہوئے ہیں۔ تو قارئین ہم خوفزدہ ہیں، اسی لئے جس انداز میں بات کی گئی اس انداز میں پیش نہیں کر سکیں گے، پیشگی معذرت قبول فرمائیں اور اس گفتگو کے موضوع بحث محترم لیڈر حضرات سے بھی ہم پہلے ہی معافی مانگ لیتے ہیں کہ وہ ہماری اس گستاخی کو معاف کر دیں کہ ہم ذکر کرنے بیٹھ گئے کہ کالم کا پیٹ بھی بھرنا ہے۔بات ہو رہی تھی سینیٹ کے انتخابات کی، پھر ہارس ٹریڈنگ کے حوالے آ گئے اور ماضی کے چھانگا مانگا،مری اور سوات کا بھی ذکر چھڑ گیا۔جب1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی، تو اراکین اسمبلی کو ایسے سنبھالا گیا تھا، جیسے مرغی اپنے چوزے پروں تلے چھپا لیتی ہے۔ اِسی میں ذکرِ خیر کپتان صاحب کا آ گیا وہ (عمران خان) اب بھی کپتان کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں کہ جو واحد ورلڈ کپ پاکستان کرکٹ ٹیم کے حصے میں آیا وہ انہی کی کپتانی میں جیتا گیا تھا،بات ان کی سینیٹ انتخابات اور ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے ہوئی، ہمارے ایک محترم نے کپتان صاحب کی طرف سے خیبرپختونخوا اسمبلی توڑنے کا ذکر چھیڑ دیا، ان کے نزدیک یہ نامناسب اور غیر سیاسی دھمکی تھی اور جب مثال دینے لگے تو استرے اور بندر کی دے ڈالی، توبہ،توبہ یہ ہم نہیں کہتے ہم تو پورا لطیفہ یا مثال بھی تحریر کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔بہرحال تبصرہ کرنے والے نے تو اِسی مثال سے اپنا موقف واضح کیا تھا۔ محترم عمران خان سخت نالاں اور غصے میں ہیں۔ ان کے تمام دلائل، جدوجہد اورگفتگو سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ2013ء کے انتخابات میں ان کے اور ان کی جماعت کے خلاف منظم دھاندلی ہوئی، ان کی جماعت کو اقتدار اور ان کو وزیراعظم بننے سے محروم کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں دھرنا اور جلسوں سے شروع کر کے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے تک کی نوبت آ گئی۔ یہ استعفے بہرحال خیبرپختونخوا اسمبلی سے نہیں دیئے گئے کہ وہاں اقتدار ان کے پاس ہے اور کپتان کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں انتخابات ٹھیک ہوئے (کیونکہ وہ جیت کر حکومت بنا چکے ہوئے ہیں) اور چیلنج کرتے ہیں کہ اس صوبے میں دھاندلی ثابت کر دو تو وہ یہاں نئے انتخابات کے لئے تیار ہیں، مخالف جماعتیں دھاندلی کا الزام لگاتی اور انتخابی عذر داریاں دائر کئے ہوئے ہیں جبکہ تحریک انصاف انتخابی عذر داریاں دائر کر کے بھی مطمئن نہیں۔ اور اس کے سربراہ عمران خان کے نزدیک سو فیصد دھاندلی ہوئی اور نئے انتخابات لازم ہیں اس کے لئے وہ جوڈیشل کمشن کا مطالبہ کرتے ہیں جو دھاندلی کی تحقیقات کرے اور نتیجے دھاندلی میں ثابت ہو تونئے انتخابات کرائے جائیں۔ وہ جوڈیشل کمشن اپنی مرضی کا اپنی پیش کردہ شرائط کے تحت مانگتے ہیں اور حکومت کے ساتھ ان کی پھڈے بازی جاری ہے۔ اب جو نیا مسئلہ پیدا ہوا وہ سینیٹ انتخابات کا ہے، اس کے لئے بھی ان کا طرز عمل کچھ عجیب محسوس ہوتا ہے اور محفل میں بات اسی حوالے سے ہو رہی تھی۔ کہنے والے کا کہنا تھا کہ خان صاحب خیبرپختونخوا پر قابض ہیں اور اس صوبائی حکومت کو پرویز خٹک کی جگہ خود چلا رہے ہیں، حالانکہ اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کے قائل اور اس کا اعلان کرتے رہتے ہیں، محفل میں معترض کا کہنا تھا کہ اب کپتان نے دھمکی دی ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی تو وہ خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کر دیں گے، خان صاحب نے لفظ استعمال کیا توڑ دیں گے، تو اعتراض کرنے والے صاحب نے پوچھا کہ کیا عمران خان وزیراعلیٰ ہیں یا پرویز خٹک صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور قائد ایوان ہیں۔عمران خان کی ہدایت پر تو اسمبلی تحلیل نہیں ہو سکتی یہ کام تو پرویز خٹک ہی کو کرنا ہے۔ یہاں ان صاحب نے استرے والی مثال داغ دی اور پوچھا اگر خان صاحب کی جماعت کو وفاق کی حکومت مل جاتی تو مخالفت پر ان کا رویہ بھی یہی ہوتا؟ محترم عمران خان کی سیاست تضادات سے بھری ہوئی ہے، لیکن بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بیروزگاری اور لاقانونیت سے تنگ عوام ان کی سُن لیتے ہیں کہ برسر اقتدار گروہ اپنے دعوؤں کے مطابق عوامی توقعات پر پورا نہیں اترا،محفل والوں کا کہنا تھا کہ کپتان کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہو گی کہ جس درخت پر بیٹھے ہو،اس کی شاخ کو تو نہ کاٹو۔

مزید : کالم