اسرائیل اور امریکی انتظامیہ میں ایران پر اختلاف؟

اسرائیل اور امریکی انتظامیہ میں ایران پر اختلاف؟

 امریکی انتظامیہ کی پسند کے خلاف اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی کانگرس سے خطاب کر لیا اور ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ دھمکی آمیز لہجہ بھی اختیار کیا۔ امریکی صدر بارک اوباما نے تبصرہ کیا کہ نیتن یاہو کوئی ٹھوس حل اور تجویز پیش نہیں کر سکے،جبکہ وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا، صدر اوباما مزید پابندیاں لگانے پر تیار نہیں اور بات چیت جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔ اُدھر ایران کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی ایڈونچر کا جواب اسرائیل کی تباہی کی صورت میں دیا جا سکتا ہے کہنے کو تو یہی کہا جا رہا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہو گئے ہیں، لیکن یہ ایک تاثر ہے جو امریکی انتظامیہ کی پالیسی سے اسرائیلی اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ورنہ امریکہ میں اسرائیل کی لابی مضبوط ہے اور اِسی کے باعث صدر اوباما کی مخالفت کے باوجود امریکی کانگرس کے سپیکر کی اجازت سے نیتن یاہو نے خطاب کیا۔ ایران اور امریکہ سمیت مغربی ممالک کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام پر تنازعہ ہے، یہ سب ایران کے پروگرام کو بند کیا ختم کرانا چاہتے ہیں،جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پُرامن اور توانائی کے حصول کے لئے ہے، ایٹم بم بنانے کے لئے نہیں اور نہ ہی ایسا ہو گا،بلکہ ایران کے سپریم لیڈر نے تو ایٹم بم بنانے کے خلاف فتویٰ دے رکھا ہے اس سلسلے میں ہی ایران پر پابندیاں لگائی گئیں جس نے ایرانی معیشت کے لئے مشکلات پیدا کیں اس کے باوجود ایران پُرعزم ہے اور اس کے مذاکرات جاری ہیں۔ ایران ایک حد تک اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ بھی کرا چکا ہوا ہے۔اوباما انتظامیہ اور ایران کے مذاکرات اطمینان بخش طریقے سے کامیاب ہونے کے بعد ہی ایران سے پابندیاں ختم ہوں گی۔ تاحال تو پاکستان بھی متاثر ہو رہا ہے۔ہمیں ایران سے گیس اور بجلی کی ضرورت پوری کرنا ہے معاہدوں کے باوجود پابندیوں نے تکمیل روک رکھی ہے۔ نئی صورت حال میں اوباما انتظامیہ اور ایران کو جلد معاملات طے کر لینا چاہئیں کہ یہ متعلقہ ملکوں کے علاوہ خطے اور عالمی امن کے لئے بھی بہتر ہے۔

مزید : اداریہ