ڈکیتی مزاحمت پر زخمی ہونیوالا شہری تھانہ کے چکر لگانے پر مجبور

ڈکیتی مزاحمت پر زخمی ہونیوالا شہری تھانہ کے چکر لگانے پر مجبور

 لاہور(کرائم سیل)کوٹ لکھپت کے علاقہ میں ڈکیتوں کے ہاتھوں رقم،ہنڈاوغیرہ لٹانے اور مزاحمت پر زخمی ہونے والا شہری کارروائی کے لیے تھانے کے چکر لگانے پر مجبور ہو گیا۔پولیس اہلکاروں نے 2ہزار روپیہ لے کر مقدمہ درج کیا اور اب کارروائی کے لیے بھی پیسے مانگ رہے ہیں۔متاثرہ شخص سکندر نعیم ا ور اس کے رشتہ داروں کا الزام ۔نمائندہ\" پاکستان\" سے گفتگو کرتے ہوئے سکندر نعیم اور اس کے رشتہ دارا ور دوستوں ساجد مقصود،محسن مقصود ،امان اللہ اور مدثر بلوچ نے بتایا کہ وہ فیصل ٹاؤن ڈی بلاک کے رہائشی ہیں۔سکندر 30جنوری 2015 کوکوٹ لکھپت کے علاقہ قینچی سٹاپ کی جانب جا رہا تھا کہ دو نا معلوم ڈاکوؤں نے اس کو روک لیا اور اس سے 6ہزار روپے نقدی،50ہزار مالیت کا موبائل ،ہنڈا 125نمبر LEL 898اور دیگر سامان لوٹ لیااور مزاحمت کرنے پر اس کو زد و کوب کیا اور پستول کے بٹ مار کے اس کو شدید زخمی کر دیا،بعد ازاں ڈاکو موقع سے فرار ہو گئے۔ اس نے تھانہ کوٹ لکھپت میں معاملے کا مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواست دی لیکن انہوں نے مقدمہ درج نہیں کیا بعد ازاں 2ہزار روپے دینے پر پولیس اہلکاروں نے اس کا مقدمہ نمبر 127\\15 تو درج کر لیا لیکن اس پر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے جبکہ وہ ایک ماہ سے روزانہ تھانے کے چکر لگا رہے ہیں ،پولیس اہلکار کارروائی کے لیے مزید رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سکندر نعیم نے ملزمان کی شکلوں کا خاکہ اور ان کے حلیے بھی پولیس کو نوٹ کروائے ہیں لیکن تاحال کوئی کارروائی نہیں ہو سکی ۔پولیس حکام سے اپیل ہے کہ کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کر کے ان کو انصاف فراہم کیا جائے ۔اس حوالے سے تھانہ کوٹ لکھپت کے محرر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ رشوت لینے والی بات میں کوئی صداقت نہیں ہے، اس نے مقدمہ درج کروانے کے لیے کوئی رقم نہیں لی جبکہ ملزمان کی تلاش جاری ہے جلد ہی ان کو ٹریس کر لیا جائے گا۔

مزید : علاقائی