سول لائن پولیس کی پیٹی بھائی سے بے وفائی ،تشدد کا شکار کانسٹیبل کو انصاف نہ مل سکا

سول لائن پولیس کی پیٹی بھائی سے بے وفائی ،تشدد کا شکار کانسٹیبل کو انصاف نہ ...

 لاہور( کرائم سیل) سول لائن پولیس کی اپنے ہی تھانے کے پیٹی بھائی سے بے وفائی ، پولیس کانسٹیبل کو 2روز گزرنے کے باوجود انصاف نہ مل سکا۔ ریگل چوک میں مبینہ ایف آئی اے انسپکٹر کے بیٹے اور اس کے گارڈوں کا گرلز ہائی سکول کی سیکیورٹی پر مامور پولیس کانسٹیبل پر سکول کے گیٹ کے سامنے گاڑی کھڑی کرنے سے روکنے پر وحشیانہ تشدد،وردی پھاڑدی اور آہنی راڈ سے وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔پولیس نے ملزمان کی کار کو قبضہ میں لے لیا لیکن اعلٰی افسران کے پریشر کی وجہ سے تاحال مقدمہ درج نہیں ہو سکا ۔تفصیلات کے مطابق ریگل چوک سیکریٹ ہارٹ گرلز ہائی سکول کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار محمد نواز کو ایف آئی اے کے نامعلوم ملازمین نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔عینی شاہدین اور زخمی پولیس اہلکار کے کزن محمد شہزاد نے بتایا کہ ریگل چوک پرمحمد نواز کی گرلزہائی سکول کے سامنے سیکیورٹی کی ڈیوٹی لگی تھی جہاں گزشتہ روز سفید رنگ کی کلٹس نمبر LWA 9757 میں ذیشان نامی شخص آیا اور اس نے سکول کے گیٹ کے سامنے کار کھڑی کر دی جس پر پولیس اہلکار نواز نے اسے منع کیا لیکن ذیشان نے اس سے تلخ کلامی شروع کر دی اور کہا کہ اس کا والد ایف آئی اے میں انسپکٹر ہے، اگر اس سے بد تمیزی کی تو برا ہو گا۔نواز کے اصرار پر ذیشان نے اپنی مدد کے لیے تین افراد کو بلا لیا جن میں دو افراد پولیس کی وردیوں میں ملبوس تھے جبکہ ایک سادہ لباس میں تھا ،وہ افراد اس کے گارڈ لگتے تھے۔ان لوگوں نے آتے ہی پولیس اہلکار نواز کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور اس کی بندوق چھین کر سڑک پر پھینک دی۔ ایک شخص نے اس پر آہنی راڈ کے وار کئے اور بندوق کے بٹ مارے جس کی وجہ سے وہ بری طرح زخمی ہو گیا جبکہ بائیں ہاتھ پر شدید چوٹ آئی۔ لوگوں کے اکٹھے ہونے پر ملزمان کار موقعہ پر ہی چھوڑ کر فرار ہو گئے۔راہگیروں کی اطلاع پر ریسکیو 1122نے موقع پر پہنچ کر زخمی نواز کو گنگا رام ہسپتال میں منتقل کیا ۔ذرائع کے مطابق پولیس نے ملزمان کی گاڑی کو قبضہ میں لے لیا ہے لیکن اعلٰی افسران کی جانب سے پریشر کی وجہ سے ابھی تک واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور نہ ہی ملزمان میں سے کسی کو حراست میں لیا گیا ہے۔اس حوالے سے ایس ایچ او سول لائن عابد رشید سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا جبکہ محر ر محمد احمد کا کہنا تھا کہ واقعہ کی کوئی ایف آئی آر اس کے پاس نہیں آئی ہے اور نہ ہی کوئی ملزم اس الزام میں حراست میں ہے۔

مزید : علاقائی