حج اور عمرے کے کرائے کم کئے جائیں!

حج اور عمرے کے کرائے کم کئے جائیں!
 حج اور عمرے کے کرائے کم کئے جائیں!

  


حج 2014ء میں وزارت مذہبی امور نے قومی ایئر لائنز سمیت دیگر ایئر لائنز سے حج کرایہ مانگاتو سرکاری حج کے لئے ایک لاکھ سات ہزار کے قریب اور پرائیویٹ حج سکیم کے حجاج کے لئے سوا لاکھ روپے سے زائد کرایہ وصول کرنے کا عندیہ دیا گیا۔قومی ائیر لائنز کی دیکھا دیکھی سعودی ایئر لائنز ،شاہین ایئر لائنز نے بھی پی آئی اے والا کرایہ لینے کا اعلان کردیا۔ سعودی ایئر لائنز کے ذمہ داران سے میں نے سوال کیا۔آپ حج کرایہ 85ہزار تجویز کرنے والے تھے پھر اچانک سوا لاکھ کیوں دے دیا ان کا جواب تھا پاکستان کی اپنی ایئرلائنز سوا لاکھ دے گی تو ہم کیسے 85ہزار دے سکتے ہیں انہی دنوں ایمریٹس ،گلف ائر، اتحاد ائر ، کویت ایئر ویز نے وزارت مذہبی امور کو 85ہزار روپے سرکاری اور پرائیویٹ حج آپریشن مکمل کرنے کی آفر دے دی۔ دیگر ایئر لائنز کی طرف سے دی گئی آفر معمولی نہیں تھی۔ پی آئی اے کی مینجمنٹ نے 8ائیر لائنز کی طرف سے سستے حج کرائے دینے پر بھی اپنی ڈھٹائی جاری رکھی اور مختلف انداز میں پی آئی اے کے بڑھتے ہوئے خسارے کا رونا رو کر وزارت مذہبی امور کو مجبور کر دیا کہ وہ سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم کا کرایہ الگ الگ رکھے اور سرکاری حجاج سے 25ہزار کرایہ کم لے۔ بعض افسروں سے سودے بازی کی خبریں بھی آئیں، مگر پی آئی اے مینجمنٹ نے اپنی نالائقیوں اور بے ضابطگیوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے خسارے کو پورا کرنے کا ذریعہ حج اور عمرہ زائرین کو ہی بنا رکھا ہے۔ اس میں سو فیصد کامیاب رہی۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے باکمال لوگوں کی لاجواب سروس میں حاجی کو صرف 32کلو سامان لانے کی اجازت ہے جبکہ سعودی ایئر لائنز 23+23 کلو کے دو بیگ لانے کی اجازت دیتی ہے۔ قواعد پر عمل درآمد کا ڈرامہ بھی عجیب ہے۔ حج 2014ء جب سعودی حکومت نے سختی سے 10کلو زم زم لانے پر پابندی عائد کر دی صرف 5کلو کا زم زم کین لانے کی اجازت دی ان حالات میں بھی بعض حجاج پچاس پچاس کین پی آئی اے پر لائے۔ حج 2015ء کی پالیسی کے حوالے سے 10دن پہلے وزارت مذہبی امور نے اپنی روایات کے مطابق پی آئی اے اور دیگر ائر لائنز کو بلایا اور اس میں حج 2015ء کی منصوبہ بندی پر بات ہوئی اور پی آئی اے کو حج کرایہ 2015ء دینے کا کہا گیا واقفان حال اس میٹنگ کی تفصیل بتاتے ہیں جس میں وزارت مذہبی امور کے جوائنٹ سیکرٹری محمد فاروق ڈی جی سول ایوی ایشن، چیئرمین ہوپ حاجی مقبول احمد پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنز کے ذمہ داران شریک ہوئے۔ اس اہم مشاورتی میٹنگ میں ڈی جی سول ایوی ایشن نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی حج 2015ء میں خصوصی دلچسپی اور پٹرول سستا ہونے کے بعد حج کرایوں میں نمایاں کمی کی خواہش کا تذکرہ کیا تو پی آئی اے نے مؤقف اختیار کیا ہم حج 2015ء کے حج کرائے بڑھاتے نہیں ہم 2014ء والے کرائے لے لیں گے اس انداز میں کہا گیا جیسے حجاج کرام کے ساتھ ساتھ پی آئی اے پوری پاکستانی قوم پر احسان کررہی ہے چیئرمین ہوپ حاجی مقبول احمد اور ڈی جی سول ایوی ایشن نے جرات مندانہ انداز اپنایا تو پی آئی اے نے 15دن کی مہلت مانگ لی۔ چیئرمین ہوپ حاجی مقبول احمد کی طرف سے سعودی ایئر لائنز کی طرح پی آئی اے کو 45کلو وزن لانے کے لئے پابند کرنے کی بات ہوئی اس پر بھی پی آئی اے حکام سیخ پا ہوئے۔ ہوپ کے چیئرمین کا موقف جاندار ہے جس میں انہوں نے 23+23 کلو کے دو بیگ تمام ایئر لائنز کے لئے لازمی کرنے اور پٹرول سستا ہونے کے تناسب سے حج کرایوں میں کمی کا مطالبہ کیا۔ حج کرائے کم از کم 40 فیصد گزشتہ سال سے کم ہونا چاہیں۔ پٹرول 40فیصد سستا ہوا ہے اس میں بھی دو رائے نہیں ہے ملکی معیشت کی مضبوطی اور زرمبادلہ کے بڑھتے ہوئے ذخائر کی خوشخبری بھی وزیر خزانہ دے رہے ہیں۔ ان حالات میں وزیر خزانہ وزیر پٹرولیم وزیر دفاع کو میدان میں آنا چاہیے اور حج 2015ء کے لئے حج کرائے 40فیصد کم کرانے اور سرکاری اور پرائیویٹ حج کرائے یکساں رکھنے کو یقینی بنانے میں اپنا کردارادا کرنا چاہیے۔ وزیرپٹرولیم کو مبارک ہو ان کی اپنی ایئر لائنز ایئر بلیو بھی حج آپریشن 2015ء کا حصہ بن گئی ہے وہ ایئر بلیو کی طرف سے خصوصی حج کرایہ کی آفر دے کر نام کما سکتے ہیں۔ عمرہ کرایوں کی کہانیاں بھی عجیب ہیں ۔ عمرہ کرائے جو عمرہ سیزن کے آغاز پر 35سے 45ہزار تک ہوتے تھے وہ 75ہزار سے 95ہزار ہو گئے ہیں ائر لائنز نے حج کے بعد عمرہ زائرین کو لوٹنے کا ایسا جامع پروگرام سرمایہ دار ٹریول مافیا کے ساتھ مل کر ترتیب دیاہے۔ قومی ائر لائنز سمیت تمام دیگر ائر لائنز نے پورے پورے جہاز ایڈوانس میں فروخت کرکے سسٹم میں ہاؤس فل کا بورڈ لگا دیا ہے۔ ایئر لائنز نے ایڈوانس رقم کے حصول کے لئے 60 ہزار میں تمام کلاسز کی ٹکٹ فروخت کرکے اربوں روپے تجوریوں میں ڈال لئے ہیں اور عمرہ زائرین کو مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔60ہزار میں خریدا ہوا ٹکٹ 90ہزار میں فروخت ہورہا ہے۔30ہزار روپے ایک ٹکٹ کا منافع اندھیر نگری نہیں تو اور کیا ہے۔ سینکڑوں عمرہ ویزے ایکسپائر ہو رہے ہیں۔عمرہ کاروبار مادر پدر آزاد تھا ہے اور لگتا ہے اسی طرح رہے گا۔ آخر میں چند گزارشات وفاقی سیکرٹری مذہبی امور عامر سہیل مرزا اور ان کی ٹیم کے لئے ہیں۔ پورے پاکستان میں حج کوٹہ 2015ء کے حصول کے لئے بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ کروڑوں روپے وزراء سینیٹرز سیکرٹریز اور وزارت مذہبی امور سے تعلق کی بنیاد پر بروکر مافیا اکٹھا کررہا ہے۔ سوفیصد کوٹہ دلانے کی گارنٹی دی جا رہی ہے۔ آپ لوگوں کا جواب یقیناً یہی ہوگا۔ ہم کوٹہ نہیں دے رہے ہمارے پاس کوٹہ ہے ہی نہیں کہاں سے دیں گے۔آپ کا موقف بھی درست ہے لیکن حج کوٹہ کی تقسیم کا پنڈورا بکس کھلنے کی نوید کسی نے تو سنائی ہوگی۔وفاقی سیکرٹری اور ان کی ٹیم کی ایمانداری اور نیک نامی پر کوئی شک نہیں۔عبرت حاصل کیجئے سابق وفاقی وزیر مذہبی امور اور جوائنٹ سیکرٹری اور ڈی جی حج سے جواب تک سزا بھگت رہے ہیں۔ کوٹہ لینے کے بعد کسی وزیر کا بیٹا بھی آپ کے ساتھ نہیں کھڑا ہوگا۔ سرکاری اور پرائیویٹ حجاج میں تفریق ختم کرکے عمل سے ثابت کیجئے اور حج 2015ء کے لئے سرکاری اور پرائیویٹ سکیم اور شارٹ حج کا کرایہ کم کرتے ہوئے یکساں رکھنے میں اپنا کردار ادا کیجئے۔ حاجی کی تربیت جدہ میں استقبال نئی بسوں کی فراہمی اور مانیٹرنگ ٹیموں کو خالصتاً میرٹ پر لا کر صلاحیت دکھائیے۔ اللہ آپ کی کوششوں کو قبول فرمائے۔آمین

مزید : کالم