کرکٹ ورلڈکپ، وکٹوں کی ساخت، رنز کے انبار لگ رہے ہیں

کرکٹ ورلڈکپ، وکٹوں کی ساخت، رنز کے انبار لگ رہے ہیں

 تجزیہ: چودھری خادم حسین

کرکٹ ورلڈکپ2015ء نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں جاری ہے اس میں بعض میچ حیرت کا باعث بھی بن رہے ہیں، سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ورلڈکپ کے میچوں کا معتدبہ حصہ بگ تھری میں سے ایک رکن آسٹریلیا میں ہے اور مرکزی کردار بھی آسٹریلیا کرکٹ بورڈ کا ہی ہے۔اب تک جو میچ ہوئے اس میں ہر بہتر ٹیم نے 300 سے زائد رنز بنائے حتیٰ کہ آسٹریلیا اور ساؤتھ افریقہ نے تو 400کا ہندسہ بھی عبور کیا۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی وکٹوں کے حوالے سے یہ عجیب صورت حال ہے کہ یہاں کی وکٹوں کو سپورٹنگ یا تیز وکٹیں قرار دیا جاتا ہے تاہم اس ورلڈکپ میں یہ وکٹیں بیٹنگ وکٹیں ثابت ہو رہی ہیں اور یہ خاص طور پر سے تیار کی گئی ہیں۔ اب تک ہونے والے میچوں کی اِسی صورت حال کی روشنی میں بھارت سے آواز آئی ہے کہ پورا ورلڈکپ فکس ہے اور یہ پہلے سے طے ہے کہ اس مرتبہ عالمی چیمپئن ساؤتھ افریقہ ہو گا اور بھارت مُنہ دیکھنا رہ جائے گا۔

ورلڈکپ2015ء میں شریک ٹیموں کے حوالے سے بہتر اور کمزور ٹیموں کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے، اس میں انگلینڈ اور پاکستان دو ایسی ٹیمیں ہیں جن کو مشکلات کا سامنا ہے، باقی ٹیموں کے نتائج ان کی صلاحیت کے مطابق ہیں البتہ ساؤتھ افریقہ کی بھارت سے شکست اور پھر اچانک فارم حیرت کا باعث ضرور ہے اس لئے فکسنگ کی خبروں کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا، اس کے لئے کئی طرح کے انتظامات ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو شکوہ ہے کہ پاکستان کے میچ اس طرح ترتیب دیئے گئے کہ اسے مختلف ماحول، موسم اور وکٹوں پر کھلایا جا رہا ہے جبکہ بعض ٹیموں کے میچ ایک ہی قسم کی وکٹوں پر رکھے گئے ہیں۔ یہ تحقیق طلب معاملہ ہے۔میچ فکسنگ کے الزام بہت پرانے ہیں اور آئی سی سی نے اینٹی کرپشن یونٹ بھی بنا رکھا ہے ، لیکن شیڈول اور وکٹوں کی تیاری تو خود آئی سی سی کی ذمہ داری ہے، اس لئے اس پر انگلی تو اُٹھ سکتی ہے اور ایسا بھارت ہی کی طرف سے ہوا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ ٹیم شدید تنقید کی زد میں ہے اور ٹیم آفیشلز کا سیاست میں ملوث ہونا نظر آ رہا ہے۔پہلے تو ٹیم چننے کے لئے جو30کھلاڑی منتخب کئے گئے وہی قابل اعتراض چناؤ تھا،اس کے بعد ٹیم فٹنس کا شکار ہوئی، پہلے تو سعید اجمل اور محمد حفیظ باؤلنگ ایکشن کی پابندی کا شکار ہوئے۔ یہاں جنید خان اور عمر گل کے علاوہ عرفان احمد اَن فٹ تھے، ان میں سے صرف عرفان احمد نے ٹیسٹ پاس کیا اور گئے۔ محمد حفیظ پہلے ہی میچ (پریکٹس) میں اَن فٹ ہوئے تو ان کو واپس بھجوانے کی جلدی کی گئی، ان کی جگہ ناصر جمشید اور یاسر شاہ کو بلوایا گیا، یاسر شاہ ابھی تک ڈیلیور نہیں کر پائے اور ناصر جمشید کی فارم ہی نہیں بنی وہ خود بھی شرمندہ اور قوم کو بھی شرمسار کر رہے ہیں۔ نتیجتاً پاکستان بھارت اور ویسٹ انڈیز سے ہار گیا، اس عرصہ میں معین خان سکینڈل بنا،اب دو میچ(کمزور ٹیموں سے) جیت لینے کے بعد بلند بانگ دعوے کئے جانے لگے ہیں تو سرفراز احمد کے مسئلہ پر اختلاف اور تنازعہ بھی سامنے آتا جا رہا ہے ایسے میں پاکستان ٹیم آئندہ مشکلات سے نکل سکے گی کہنا مشکل ہے۔ بہرحال ایک بات کہی جا سکتی ہے کہ ٹیم کی بُری کارکردگی کے تمام ذمہ داروں کو فارغ ہونا چاہئے، بلکہ خود ہی باعزت مستعفی ہو جانا چاہئے،اب ایک میچ ساؤتھ افریقہ اور دوسرا آئر لینڈ سے ہے اللہ خیر کرے۔ اس کے باوجود اگر کوارٹر فائنل تک پہنچتے ہیں تو سیمی فائنل تک جانا مشکل نظر آتا ہے۔

مزید : تجزیہ