سینیٹ انتخابات، مسلم لیگ -ن- پنجاب اور اسلام آباد میں فاتح, خیبر پی کے میں تریک انصاف کو برتری

سینیٹ انتخابات، مسلم لیگ -ن- پنجاب اور اسلام آباد میں فاتح, خیبر پی کے میں ...

لاہور،پشاور(خصوصی رپورٹ،کرائم رپورٹرز) سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ نون نے پنجاب سے تمام گیارہ نشستیں جیت کر کلین سویپ کر دیا جبکہ اس نے وفاقی دار الحکومت کی دونوں سیٹیں بھی جیت لیں۔ سندھ میں پانچ سیٹیں پیپلز پارٹی اور دو ایم کیو ایم نے حاصل کر لیں جبکہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن)، پختونخوا میپ اور نیشنل پارٹی نے تین تین سیٹیں جیتیں۔تفصیل کے مطابق مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی میں سینٹ کی تمام گیارہ سیٹیں جیت لیں۔ ٹیکنوکریٹ سیٹوں پر راجہ ظفرالحق اور پروفیسر ساجد میر،خواتین نشستوں پر بیگم نجمہ حمید اور عائشہ رضا جبکہ سات جنرل نشستوں پر نون لیگ کے مشاہد اللہ خان ، پرویز رشید اور نہال ہاشمی ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبد القیوم، چودھری تنویر، سلیم ضیا اور غوث خان نیازی سنیٹر منتخب ہو گئے۔ مسلم لیگ(ن) نے وفاق کی دونوں سیٹیں بھی جیت لیں۔ اقبال ظفر جھگڑا نے 211 جبکہ راحیلہ مگسی نے 205 ووٹ حاصل کئے۔ سندھ اسمبلی میں سینٹ کی سات جنرل نشستوں میں سے پانچ پیپلز پارٹی اور دو ایم کیو ایم نے حاصل کر لیں۔ پیپلزپارٹی کے کامیاب امیدواروں میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ، سابق وزیر مملکت سلیم مانڈوی والا ،سابق وزیر مملکت اسلام الدین شیخ ، سابق وزیر گیان چند اور عبداللطیف انصاری شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت اور میاں محمد عتیق سنیٹر منتخب ہو گئے۔ ٹیکنو کریٹ اور خواتین کی چار نشستوں پر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے دو دو امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں سینٹ کی بارہ سیٹوں میں سے مسلم لیگ (ن)، پختونخوا میپ اور نیشنل پارٹی نے تین تین سیٹیں جیت لیں۔ جے یو آئی اور بی این پی مینگل کو ایک ایک سیٹ ملی۔ جنرل سیٹوں پر نیشنل پارٹی کے میرحاصل بزنجو پشتونخوا میپ کے محمد عثمان کاکڑ ، اعظم موسیٰ خیل اور جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) کے نعمت اللہ زہری ، بی این پی مینگل کے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور آزاد امیدوار یوسف بادینی نے کامیابی حاصل کر لی۔ ٹیکنوکریٹس کی دو سیٹوں پر نیشل پارٹی کے کبیر محمد شہی اور مسلم لیگ (ن) کے آغا شہباز درانی کامیاب ہو گئے۔ خواتین کی دو نشستوں پر پشتونخوا میپ کی گل بشریٰ اور مسلم لیگ (ن) کی کلثوم پروین کامیاب ہو گئیں۔ اقلیتی نشست پر نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اشوک کمار کامیاب ہو ئے۔ مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک بڑا اپ سیٹ سردار یعقوب ناصر کی شکست کی صورت میں سامنے آیا انہیں صرف چھے ووٹ ملے ،ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار یوسف بادینی حیران کن طور پر کامیاب ہو گئے۔ اسپیکر جان محمد جمالی کی صاحبزادی ثنا جمالی بھی شکست کھا گئیں۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینٹ الیکشن کے لئے پولنگ کے دوران حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے مابین کشیدگی جاری رہی جس وجہ سے پولنگ کا عمل بھی پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت کے لئے ملتوی رہا۔ پولنگ کے لئے مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد چار گھنٹے کی توسیع دی گئی اور پولنگ کا سلسلہ رات 8بجے ختم ہوا۔ سینٹ الیکشن کے لئے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پولنگ صبح 9بجے شروع ہوئی جو بغیر وقفے کے سہ پہر چار بجے تک جاری رہی تاہم چند ووٹ ہی پڑنے کے بعد اپوزیشن نے الزامات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ پیپلزپارٹی کی نگہت اورکزئی، جے یو�آئی کے مولانا عطاء الرحمٰن،اے این پی کے میاں افتخار حسین، امیدوار سینٹ حاجی عدیل اورقومی وطن پارٹی کے سکندر شیرپاؤ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے انتخابی طریقہ کار سے متعلق الزامات لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر پولنگ سٹیشن سے باہر لے جائے جا رہے ہیں جبکہ چار کیٹگریز کے ووٹوں کے لئے صرف ایک باکس رکھا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ میڈیا کو کوریج کی بھی اجازت نہیں دی گئی تاکہ حقائق سامنے نہ آ سکیں۔ دھکم پیل میں نگہت اورکزئی کے پاؤں پر چوٹ آئی۔ اس دوران پولنگ کا عمل روک دیا گیا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن سے مذاکرات میں اپوزیشن نے بیلٹ باکس کی تعداد چار کرنے، الیکشن عملے کے دستخط، سیاہی کا رنگ بدلنے اور بیلٹ پیپر ہال سے باہر لے جانے پر پابندی کا مطالبہ کیا تاہم یہ سارے مطالبات مسترد کر دیئے گئے۔رات گئے ملنے والے نتائج کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے 6 سینیٹرز منتخب ہو گئے۔ جے یو آئی(ف) کے 2، جماعت اسلامی اور اے این پی کا ایک ایک سینیٹر منتخب ہوا ،مسلم لیگ (ن) کے دو سینیٹرز منتخب ہوئے۔جبکہ پیپلز پارٹی کے بھی ایک امید وار خانزادہ خان کامیاب ہوگئے، جیتنے والے امیدواروں میں مسلم لیگ (ن ) کے جاوید عباسی اور لیفٹیننٹ جنرل (ر)صلاح الدین ،جماعت اسلامی کے سراج الحق ،اے این پی کی ستارہ ایاز ،جے یو آئی(ف )کے مولانا عطاء الرحمن ، تحریک انصاف کے جان کینتھ ویلیمز،ثمینہ عابد،محسن عزیز،شبلی فراز ، لیاقت خان ترکئی اور نعمان وزیر شامل ہیں۔

مزید : صفحہ اول