واپڈا کی نجکاری کیخلاف ملازمین کا مسلسل تیسرے روز دفاتر کا مکمل بائیکاٹ

واپڈا کی نجکاری کیخلاف ملازمین کا مسلسل تیسرے روز دفاتر کا مکمل بائیکاٹ

لاہور( خبرنگار)محکمہ بجلی کے ایک لاکھ پچاس ہزار ملازمین نے مسلسل تیسرے روز لاہور سمیت ملک بھر میں واپڈا کی نجکاری کے خلاف واپڈا کے دفاتر کا مکمل بائیکاٹ کیا ، احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں،دوسری جانب آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے زیراہتمام ملک بھر میں ملاز مین نے \"یوم احتجاج\" منایا اور حکومت سے پْرزور مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو ہائیڈل اور کوئلہ وگیس سے سستی بجلی مہیا کرائے اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے محکمہ بجلی قومی ادارہ کی ورلڈ بینک کے دباؤ پر نج کاری کی بجائے اس کی کارکردگی میں اضافہ کے لئے موثر اقدامات کرے۔ اس احتجاج کے دوران شہروں میں زبردست احتجاجی جلسے منعقد کئے گئے ۔ اس سلسلہ میں لاہو رمیں بھی شالا مار کمپلیکس لیسکو اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ہیڈکوارٹر کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے جس سے یونین کے نمائندگان ساجد کاظمی، حاجی محمد لطیف،، شیخ محمد شعیب، رانا عبدالشکور، رانا محمد اکرم، ظفر متین، حاجی محمد یونس، چوہدری مقصود احمد ودیگر نمائندگان نے خطاب کیا ۔ اس اثناء میں بزرگ مزدور راہنماء خورشیداحمد مرکزی جنرل سیکرٹری یونین نے وزیراعظم پاکستان سے پْرزور مطالبہ کیا کہ وہ قومی ادارے محکمہ بجلی کو سیٹھوں کے حوالے کرنے کی بجائے اسے پارلیمنٹ و سینٹ میں زیر بحث لائیں اور کارکنوں سے مذاکرات کریں۔اگر عوامی جمہوریہ چین میں سرکاری شعبے میں ایک ارب دس لاکھ صارفین کو سستی بجلی مہیا کی جاسکتی ہے تو کیا پاکستان میں یہ ممکن نہیں ؟ ۔

واپڈا نجکاری

مزید : علاقائی