ہائیکورٹ میں وکلاء کا اخلہ بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے ہو گا، بار ایسوسی ایشن

ہائیکورٹ میں وکلاء کا اخلہ بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے ہو گا، بار ایسوسی ایشن

لاہور(نامہ نگار خصوصی )دہشت گردی سے بچنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کا داخلہ بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے ہوگا۔3سے زیادہ سرکاری محکموں کی لیگل ایڈوائزریاں رکھنے والے وکلاء کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا ۔یہ فیصلے گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ بار کے اجلاس عام میں کئے گئے جس کی صدارت لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر پیر مسعود چشتی نے کی ۔اجلاس سے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ ،صدر ہائی کورٹ بار پیر مسعود چشتی ،سیکرٹری ہائی کورٹ بار بیرسٹر محمد احمد قیوم اور لیاقت قریشی ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ دہشت گردوں کا بڑاہدف ہے ۔وطن عزیز عرصہ دراز سے دہشت گردی کا شکار ہے، اب جبکہ حکومت وقت نے دہشت گردوں کے خلاف بھر پور اور موثر انداز میں قلع قمع کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے تو دہشت گردوں نے انتہائی حساس اور اہم مقامات کو اپنی ہٹ لسٹ میں شامل کر رکھا جن میں لاہور ہائیکورٹ ان کا بہت بڑا ٹارگٹ ہے۔ اس حوالہ سے لاہور ہائیکورٹ میں ممکنہ دہشت گردی کے کچھ شواہد بھی ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتے ، وکلاء کو لاہور ہائیکورٹ میں داخل ہوتے وقت سیکورٹی سٹاف سے مکمل تعاون کرنا چاہئے اور وکلاء اس میں کسی قسم کی عار محسوس نہ کریں۔ ہم سب کو مل کر لاہور ہائیکورٹ کو محفوظ بنانا ہو گا لہٰذا جو لوگ ہماری حفاظت پر معمور ہیں ان کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے لیگل ایڈوائزریوں کے حوالہ سے کہا کہ قانون کے مطابق ایک وکیل کے پاس تین سے زیادہ لیگل ایڈوائزی نہیں ہونی چاہیں۔ اس معاملہ کو حل کرنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو پٹیشن فائل کرنی چاہئے۔ جنرل ہاؤس نے بار کی طرف سے پٹیشن دائرکرنے کی اجازت دے دی۔ اجلاس میں بیرسٹر محمد احمد قیوم کی طرف سے پیش کی گئی قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں ۔جن میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کا انٹری گیٹس پر بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے داخلہ ہو گا،بار نے لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا کہ منشی حضرات اور سائلین کے داخلہ کیلئے سپریم کورٹ کی طرز پر متعلقہ کیس کے سائلین کو بذریعہ کمپیوٹر ڈیٹا کی بنیاد پر داخلہ کی اجازت کا طریقہ اختیار کیا جائے ،اجلاس میں لیگل ایڈوائزریوں کے معاملہ پر درخواست دائر کرنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کو اجازت دے دی گئی۔

مزید : علاقائی