بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اوورسیز کمیشن پنجاب کے قیام کو اپنے ساتھ مذاق قرار دیدیا

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اوورسیز کمیشن پنجاب کے قیام کو اپنے ساتھ مذاق ...

اسلام آباد(اے این این) بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے دعوؤں کیساتھ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں باقاعدہ قانونی تحفظ کیساتھ ملک کے پہلے صوبائی اوورسیز کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تاہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس کمیشن کے قیام کواپنے ساتھ ایک مذاق قراردیا جبکہ انہوں نے اس امر پربھی حیرت کا اظہار کیاہے کہ کمشنر کے عہدے پر میرٹ کے مطابق تقرری کا طریقہ کار اختیار کرنے کے باوجود (ن)لیگ کے ہی کے ایک رہنما کو اس منصب کا اہل سمجھا گیا ۔جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بڑے بڑے مسائل میں پراپرٹی یا جائیداد کے مسائل، تجارتی جھگڑے اور پولیس سے متعلقہ شکایات شامل ہیں۔ صوبہ پنجاب میں قائم ہونے والا اوورسیز کمیشن آنے والے دنوں میں ایک ابلاغی مہم شروع کرنے والا ہے جس میں بیرون ملک مقیم لوگوں کو کمیشن کے حوالے سے گائیڈ کیا جائے گا۔اس کمیشن کے سربراہ افضال بھٹی ایک برٹش پاکستانی ہیں اور مسلم لیگ نون کے پلیٹ فارم سے پچھلے کئی سالوں سے پارٹی کے لیے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں ۔ پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے سابق صدر اور دبئی میں مقیم ایک پاکستانی بزنس مین ریاض فاروق ساہی نے کہاہے کہ صرف ایک صوبے کے لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ کمشنر کے عہدے پر میرٹ کے مطابق تقرری کا طریقہ کار اختیار کرنے کے باوجود مسلم لیگ نون ہی کے ایک رہنما کو اس منصب کا اہل سمجھا گیا ہے۔ریاض فاروق ساہی کے مطابق اس طرح کے کمیشن اپنے لوگوں کو نوازنے کے لیے بھی بنائے جاتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس کمیشن کا وائس چیئرمین خالد شاہین بٹ کو بنایا گیا ہے، جو امریکا میں رہتے ہیں اور شریف برادران کی طرح کشمیری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ریاض فاروق ساہی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کا تعلق مقامی پاکستانی سفارت خانوں، بیرونی ملکوں میں موجود حالات اور پاکستان میں جاری غیر منصفانہ نظام سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کی پاکستانی اقدار کے مطابق تربیت اور شادی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں اٹھارہ لاکھ پاکستانیوں کے بچوں کے لیے صرف سات پاکستانی سکول ہیں باقی پاکستانی بچے بھارتی یا دیگر سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ریاض فاروق ساہی نے کہا کہہم پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہمیں کسی نے بھی اس کمیشن کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی مشاورت سے اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں حقیقی پالیسی بنا کر اس پر مثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب کے سربراہ افضال بھٹی نے جرمن نشریاتی ادارے کوانٹرویومیں کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی شکایات ای میل یا شکایات کے اندراج کے لیے بنائی گئی ویب سائٹ کے ذریعے کمیشن تک پہنچا سکیں گے اور یہ کمیشن کم سے کم وقت میں ان شکایات کے ازالے کو یقینی بنائے گا۔ اس حوالے سے اہم ملکوں میں فوکل پرسن بھی مقرر کیے جائیں گے جبکہ پنجاب میں ضلعی سطح پر اوورسیز کمیٹیاں بھی بنائی جا چکی ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل تو سابق گورنر چوہدری سرور بھی دعووں کے باوجود حل نہیں کروا سکے تھے تو یہ کمیشن کیسے حل کروا سکے گا؟ افضال بھٹی نے کہا کہ ایک تو تمام اہم محکموں کے سیکرٹریز بشمول انسپکٹر جنرل پولیس، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب اس کمیشن کے ممبر ہیں۔ دوسرا یہ کمیشن وزیر اعلی پنجاب کی براہ راست نگرانی میں کام کر رہا ہے اور اس کمیشن کے پاس کمیشن سے تعاون نہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی ہے، اس لیے امید ہے کہ یہ کمیشن ضرور کامیاب ہو گا۔

مزید : علاقائی