سینٹ انتخابات۔۔ اور عوام کے بغیر ہارس اینڈ کیٹل شو

سینٹ انتخابات۔۔ اور عوام کے بغیر ہارس اینڈ کیٹل شو
سینٹ انتخابات۔۔ اور عوام کے بغیر ہارس اینڈ کیٹل شو

  


سینٹ انتخابات کے بارے میں لکھنے والی کوئی نئی بات نہیں۔بس ان انتخابات کی اتنی ہی اہمیت تھی کہ وزیر اعظم اس میں ووٹ ڈالنے کے لئے وقت نہیں نکال سکے۔ پنجاب میں بغاوت کی جو بو آرہی تھی۔ وہ کامیاب نہیں ہوئی۔ ندیم افضل چن کامیاب نہیں ہوئے۔ لیکن ان کو سات ووٹ زیادہ ملے ہیں۔پندرہ ووٹ ضائع بھی ہوئے ہیں۔ اس لئے دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ لیکن ابھی پوری دال کالی نہیں ہوئی۔ اتنی بڑی پارلیمانی پارٹی میں اگر چند لوگ ناراض بھی ہیں تو کوئی پریشانی والی بات نہیں۔ شکر ہے نواز لیگ تحریک انصاف کی طرع شور نہیں مچا رہی کہ پیپلز پارٹی نے ان کے سات ووٹ خرید لئے ہیں۔ بلکہ مٹی ڈالنے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔ سندھ میں کچھ بھی ایسا نہیں ہوا ۔ جس پر لکھا جا سکے۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وہی ہوا ہے جو وہاں کی ہر برسر اقتدار پارٹی کے ساتھ ہو تا ہے جس کی قیادت بلوچی نہیں۔ جب مسلم لیگ (ق) مسلم لیگ (ن) کی طرح بلوچستان میں بر سر اقتدار رتھی تو تب مسلم لیگ (ق) کے ساتھ بھی یہی ہو تا تھا۔ صرف ایک اپ سیٹ کوئی بڑی خبر نہیں ۔ خیبر پختونخواہ میں تو ڈرامہ ہی ڈرامہ تھا۔ بیچاررے جاوید نسیم ڈر کے مارے ووٹ ڈالنے ہی نہیں آئے۔ اسی لئے کہتے ہیں سیات میں جو ڈر گیا وہ مر گیا۔ اب وہ نہ شہید نہ غازی۔ واپسی کا کوئی راستہ نہیں ۔ بس آگے آگے جانا ہے۔ پانچ گھنٹے ووٹنگ رکی رہی۔ سب ایک دوسرے کو چور چور کہہ رہے ہیں۔ سینٹ نہیں یہ تو گلی محلہ کے الیکشن کا ماحول بن گیا۔ خالی پرچیاں اندر اور بیلٹ پیپر باہر۔ ایسا تو کونسلر کے انتخاب میں خریدے ہوئے ووٹوں کے ساتھ ہو تا ہے۔کیا یہی تحریک انصاف کانیا پاکستان ہے۔ فا ٹا کے حوالہ سے حکومت کے بارے میں ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوا کہ کسی بھی معاملہ میں کوئی تیاری نہیں۔ سب ڈنگ ٹپاؤ پروگرام ہے۔ جہاں تک چیئر مین سینٹ کے انتخاب کا تعلق ہے توکھیل ابھی شروع ہوا ہے۔ ابھی تک تو ہارس ٹریڈنگ اس طرح نہیں ہوئی جس کا خطرہ تھا۔ لیکن چیئر مین سینٹ کے انتخاب پر اب سیاسی جماعتیں کھل کر ہارس ٹریڈنگ کریں گی۔ یہ بالکل اسی طرح ے جیسے جوئے خانہ میں جواء کھیلنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ لیکن جوئے خانہ سے باہر اس کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کی قیادت کے پاس ہارس ٹریڈنگ کا لائسنس ہے ۔ لیکن وہ اپنے علاوہ کسی اور کو یہ لائسنس دینے کے لئے تیار نہیں۔سیاسی جماعتوں کی قیادت خود تواس بات کے لئے جوابدہ ہونے کے لئے تیار نہیں کہ انہوں نے کس کو کس میرٹ پر ٹکٹ دیا۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ارکان اسمبلی ان کی دی گئی غلط ٹکٹوں پر بھی آمین کہیں اور اس کو جمہوریت کہا جا رہا ہے۔ جہاں ارکان اسمبلی کو پابند بنانے کی ضرورت ہے وہاں پہلے ٹکٹوں کی تقسیم کے نظام کو بھی شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ جمہوریت آمریت بن جائے گی۔

لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو کا دس سال بعد دوبارہ انعقاد ہوا ہے۔ اس کی افتتاحی تقریب نے ماضی کی بہت حسین یادیں تازہ کر دی ہیں۔ صدر مملکت ممنون حسین اس افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ان کے ساتھ پنجاب کے قائم مقام گورنر رانا محمد اقبال خان ، دو صوبائی وزارا ء خواجہ سلمان رفیق اور حمیدہ وحید الدین بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب موجود نہیں تھے۔ شائد سینٹ انتخاب میں مصروف تھے۔ لیکن ا ن کے ساتھ بیوروکریسی کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ سیکرٹریز اور ان کے ماتحت سب موجود تھے۔ بڑے افسران کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔ پرو ٹوکول ہی پروٹوکول تھا۔ کوئی بھی پروٹوکول کے بغیر نہیں تھا۔ سیکرٹریز کے ساتھ بھی ان کا سٹاف حاضر تھا۔ اور ان کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کے لئے بھی سٹا ف حاضر تھا۔لگتا تھا کہ سیکرٹریٹ خالی ہے۔ سب یہاں موجود ہیں۔ اس طرح وی آئی پی انکلوژر مکمل بھرا ہواتھا۔ باقی سب خالی تھا۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہارس اینڈ کیٹل شو کی افتتاحی تقریب دراصل بیورو کریسی کا شو تھا۔ نہ تو عوام موجود تھے۔ اور نہ ہی عوامی نمائندے۔ خالی سٹینڈ کامیاب ہارس اینڈ کیٹل شو کو نا کام بنا رہے تھے۔

ہارس اینڈ کیٹل شو بلا شبہ پنجاب کی ثقافت کابہترین مظاہرہ ۔ خوبصورت جانور ۔خوبصورت کھیل۔ اور بہار کی آمد کا اعلان لیکن شائد افتتاحی تقریب کا دن غلط تھا۔ سینٹ انتخابات نے اس کو اہم سے کم اہم کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ سکیورٹی کے خوف میں منعقد ہونے والے اس ہارس اینڈ کیٹل شوء میں عوام کے لئے راستے بند ہیں۔ اتنے بڑے فورٹریس سٹیڈیم کے بڑے بڑے سٹینڈ خالی تھے۔ جس کی وجہ سے بہترین جانوروں اور دلیرانہ کھیل پر داد دینے ولا کوئی نہ تھا۔ افتتاحی تقریب میں صدر پاکستان کے قریب بیٹھا میں یہی سوچتا رہا کہ کیا یہ ہارس اینڈ کیٹل شو بیو رو کریسی نے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے منعقد کیا ہے ۔ تو ان کے پاس تو تفریح کے پہلے ہی بہت سے مواقع موجود تھے۔ اصل مسئلہ تو عوام کا ہے۔ اگر سیکرٹریز کی فیملیز نے ہی دیکھنا تھا تو جی او آر میں کر لیتے۔ اس کے لئے فورٹریس سٹیڈیم کی کیا ضرورت تھی۔ نہ سکولوں کے بچے۔ نہ عوام ۔ صدر مملکت بھی اپنی تقریر کے دوران جن زندہ دلان لاہور کو مبارکبا دے رہے تھے۔ وہ وہاں موجود نہیں تھی۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ مجھے بھی بس تنقید کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ خدا کا شکر ادا کریں۔ دس سال بعد لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو شروع تو ہوا۔ چلو اس سال عوام کے بغیر ہی سہی۔ اس سال بیورو کریسی دیکھ لے۔ اگلے سال عوام آجائیں گے۔ کام چلنا چاہئے۔ شائد کہ اسی طرح بیو روکریسی اپنے لئے ایک محدود پیمانے پر لاہور میں بسنت شروع کر دے۔ اور پہلے سال عوام کو اس بسنت میں حصہ لینے کی اجازت نہ ہو۔ لیکن اگلے سال پھر عوام کو بھی اجازت مل جائے گی۔ کیونکہ بسنت کے بغیر بھی لاہور کی ثقافت اب مکمل نہیں۔ اس کے لئے حکومت پنجاب کو راستہ نکالنا ہو گا۔

مزید : کالم